LIVE
Loading Breaking News...

اسکاٹ بیسنٹ اور ایران کے خلاف معاشی جنگ: نئی امریکی پالیسی کیا ہوگی؟

News Image
نامزد امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف سخت ترین معاشی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اسے معاشی 'ڈی ڈے' قرار دیا ہے۔ ایران نے ان دھمکیوں کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
امریکہ کے نامزد وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اس کے خلاف ایک 'معاشی ڈی ڈے' (Economic D-Day) آنے والا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بیسنٹ کا موقف ہے کہ ایران کو تنہا کرنے کے لیے امریکہ اپنی معاشی طاقت کا بھرپور استعمال کرے گا، جس کا مقصد تہران کی جانب سے خطے میں پھیلائے جانے والے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ ان کے مطابق، ایران کی معیشت پر شدید دباؤ ڈال کر اسے ایسے اقدامات پر مجبور کیا جائے گا جو امریکی مفادات کے مطابق ہوں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پالیسی ٹرمپ انتظامیہ کے اس وژن کا حصہ ہے جس میں 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کی حکمت عملی کو دوبارہ نافذ کیا جائے گا۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر تک لانا اور اس کے مالیاتی نظام کو عالمی بینکنگ نیٹ ورک سے مکمل طور پر منقطع کرنا ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے تجارتی شراکت داروں کے خلاف بھی سخت اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے، جس سے عالمی منڈیوں میں ایک نئی بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، ایرانی حکام نے ان دھمکیوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ 'مایوس کن' کوششیں پہلے بھی ناکام ہو چکی ہیں اور اب بھی ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کی 'معاشی جنگ' کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے متبادل راستے تلاش کر لے گا۔ ایران کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ امریکہ کی یکطرفہ پابندیاں عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور اس سے خود امریکہ کو بھی معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر امریکہ واقعی ایران کے تجارتی شراکت داروں کے خلاف سخت کارروائی کرتا ہے، تو دنیا کے دیگر ممالک کے لیے تہران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں عالمی توانائی کے بحران کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے کیونکہ ایران دنیا میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ امریکی انتظامیہ عملی طور پر کیا اقدامات اٹھاتی ہے اور ایران اس دباؤ کا جواب کس طرح دیتا ہے۔