LIVE
Loading Breaking News...

جنرل عاصم منیر کا دورہ تہران اور مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری

News Image
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر تہران کا اہم دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ اس دورے کا مقصد امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آرمی چیف ایک اہم دورے پر پیر کے روز تہران پہنچ رہے ہیں جہاں وہ ایرانی عسکری و سیاسی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی محور خطے میں امن و امان کی صورتحال اور دو طرفہ تعلقات کا فروغ ہوگا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بھی اس دورے کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے، جو اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ تہران اور اسلام آباد کے درمیان رابطے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے خطے میں ثالثی اور مصالحتی کردار ادا کرنے کی روایت رکھتا ہے اور موجودہ تنازعے کے تناظر میں اسلام آباد کی کوششیں بین الاقوامی سطح پر بھی سراہی جا رہی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کی معیشت اور سلامتی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں آرمی چیف کا یہ دورہ دونوں فریقین کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے اور کسی بڑی عسکری تصادم کو روکنے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ تہران میں ہونے والی ان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران خطے میں استحکام لانے کے لیے عملی تجاویز پر غور کیا جائے گا، جس سے مشرق وسطیٰ میں امن کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔