LIVE
Loading Breaking News...

کوانٹم کمپیوٹنگ اور سائبر سیکیورٹی کا مستقبل

News Image
کوانٹم کمپیوٹنگ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت روایتی کرپٹوگرافی کے نظام کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایلیپٹک کرو کرپٹوگرافی کے خلاف کوانٹم حملے توقع سے کہیں زیادہ جلد ممکن ہو سکتے ہیں۔
جدید دور کی ٹیکنالوجی میں کوانٹم کمپیوٹنگ سب سے انقلابی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، لیکن اس کی بے پناہ طاقت کے ساتھ ہی عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے الارم بجا دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس اور 'کوانٹم سائٹ گیسٹ' کی ہفتہ وار ڈائجسٹ کے مطابق، موجودہ دور میں استعمال ہونے والی ایلیپٹک کرو کرپٹوگرافی (ECC) اب کوانٹم کمپیوٹرز کے ہاتھوں اپنی سیکیورٹی کھونے کے دہانے پر ہے۔ یہ کرپٹوگرافی کا وہ نظام ہے جو انٹرنیٹ پر ڈیٹا کی حفاظت، آن لائن بینکنگ، اور دیگر حساس معلومات کے تبادلے کے لیے ایک مضبوط ڈھال سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹرز کی کمپیوٹیشنل صلاحیت روایتی کمپیوٹرز کے مقابلے میں لاکھوں گنا زیادہ تیز ہے، جو پیچیدہ ریاضیاتی مساوات کو منٹوں میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایلیپٹک کرو کرپٹوگرافی کی بنیاد انہی ریاضیاتی مساوات پر ہے، جنہیں توڑنا آج کے سپر کمپیوٹرز کے لیے بھی ناممکن ہے۔ تاہم، کوانٹم الگورتھمز کی ترقی کے ساتھ اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ دفاعی نظام توقع سے کہیں زیادہ جلد ناکارہ ہو سکتے ہیں، جس سے دنیا بھر کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر، سائبر سیکیورٹی کی دنیا میں 'پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی' پر تحقیق تیز کر دی گئی ہے۔ مختلف ٹیکنالوجی کمپنیاں اور عالمی ادارے ایسے نئے حفاظتی پروٹوکولز تیار کرنے میں مصروف ہیں جو کوانٹم کمپیوٹرز کے حملوں کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے ہوں۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگر وقت رہتے اس ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ نہ کیا گیا، تو مستقبل قریب میں ڈیٹا کی رازداری اور مالیاتی لین دین کا نظام شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کا دور ایک طرف جہاں طبی اور سائنسی تحقیق میں نئی راہیں کھول رہا ہے، وہیں یہ ٹیکنالوجی عالمی سیکیورٹی کے لیے ایک نیا امتحان بھی ہے۔ حکومتوں اور نجی اداروں کو اب کوانٹم سے محفوظ رہنے والے نئے معیارات اپنانے ہوں گے تاکہ ڈیجیٹل دنیا کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔ آنے والے چند سال اس شعبے میں بہت اہم ثابت ہوں گے، جہاں سیکیورٹی ماہرین اور کوانٹم ریسرچرز کے درمیان ایک نئی تکنیکی دوڑ کا آغاز ہو چکا ہے۔