Politics
نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر حکومت سازی پر اہم اجلاس
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے آزاد کشمیر میں حکومت کی تشکیل اور وزارت عظمیٰ کے امیدواروں کے حوالے سے پارٹی رہنماؤں کے ساتھ اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ اس دوران قانون ساز اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر انتخابات کے لیے پارٹی کی حکمت عملی کو بھی حتمی شکل دی گئی۔
لاہور اور مظفرآباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی زیر صدارت ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں آزاد جموں و کشمیر میں حکومت کی تشکیل اور وزارت عظمیٰ کے ممکنہ امیدواروں کے ناموں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے سینئر رہنما شاہ غلام قادر اور طارق فاروق وزارت عظمیٰ کے لیے مضبوط ترین امیدواروں کے طور پر سامنے آئے ہیں اور امکان ہے کہ انہی میں سے کسی ایک کو حتمی امیدوار نامزد کیا جائے گا۔ اجلاس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال، تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
دوسری جانب مظفرآباد میں قانون ساز اسمبلی کے ایوان میں مخصوص نشستوں پر انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ آزاد کشمیر اسمبلی میں خواتین کی پانچ مخصوص نشستوں کے لیے چھ امیدوار میدان میں ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی رفعت عابد، شہریش قمر، مریم ادریس اور مریم زمان کے علاوہ پیپلز پارٹی کی جانب سے فرزانہ یعقوب اور زوبیہ خورشید راجہ مقابلہ کر رہی ہیں۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی کی شاہین کوثر ڈار نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے تھے۔ اسی طرح علماء و مشائخ اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر بھی سخت مقابلے کی توقع ہے۔ چوہدری عبدالرحمان آرائیں تارکین وطن کے لیے مخصوص نشست پر پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔
آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شاہ غلام قادر کی زیر صدارت ہوا جس میں پارٹی کی انتخابی حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس میں شرکاء نے نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اجلاس میں منظور کردہ قرارداد میں تحریک آزادی کشمیر کے لیے پاکستان کے اصولی موقف کو دہرایا گیا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ عالمی برادری بھارت کے جنگی جرائم کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دیا جائے۔
اجلاس کے دوران یہ عزم بھی ظاہر کیا گیا کہ آزاد کشمیر میں نئی بننے والی حکومت قانون کی حکمرانی، میرٹ کی بحالی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی۔ اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے طلب کیا گیا ہے جس میں نومنتخب اراکین حلف اٹھائیں گے۔ اس سیاسی پیش رفت کو کشمیر کے خطے میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔