LIVE
Loading Breaking News...

کامسٹیک سربراہ کے خلاف تحقیقات: اہم انکشافات اور ڈاکٹر اقبال چوہدری کا ردعمل

News Image
صدرِ پاکستان کی ہدایت پر تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے او آئی سی کے ذیلی ادارے کامسٹیک کے سربراہ ڈاکٹر اقبال چوہدری کو مالی بے قاعدگیوں اور بدانتظامی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹر اقبال چوہدری نے ان الزامات کو یکطرفہ اور قانونی تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ہدایت پر قائم کردہ ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ذیلی ادارے 'کامسٹیک' (Comstech) کے سربراہ ڈاکٹر اقبال چوہدری کو سنگین نوعیت کی مالی بے قاعدگیوں اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ عہدیدار نے نہ صرف سرکاری احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کی بلکہ عدالتی ہدایات کو بھی نظر انداز کیا۔ رپورٹ میں کامسٹیک کے امور کو غیر شفاف طریقے سے چلانے اور بجٹ کی منظوری کے بغیر خطیر رقم خرچ کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر اقبال چوہدری نے گزشتہ چھ برسوں کے دوران صدارتی اجازت کے بغیر 70 سے زائد غیر ملکی دورے کیے، جن میں سے اکثر ایسے ممالک کے تھے جن کا کامسٹیک کے مقاصد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ ان دوروں کے دوران سرکاری فنڈز کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور ذاتی نوعیت کے اخراجات بھی سرکاری خزانے سے ادا کیے گئے۔ مزید برآں، رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈاکٹر اقبال چوہدری طویل عرصے تک بیک وقت دو اہم عہدوں پر فائز رہے، باوجود اس کے کہ متعلقہ وزارت نے انہیں اضافی چارج چھوڑنے کی واضح ہدایات دی تھیں۔ ملازمین کی جبری برطرفیوں اور بھرتیوں میں اقربا پروری جیسے الزامات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں، جس کے بعد کمیٹی نے معاملے کو اینٹی کرپشن اداروں کے سپرد کرنے کی سفارش کی ہے۔ ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے ڈاکٹر اقبال چوہدری نے تحقیقاتی عمل کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ایک 'یکطرفہ کارروائی' قرار دیا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ان سے نہ تو کوئی وضاحتی جواب طلب کیا گیا اور نہ ہی انہیں کوئی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، جو کہ کسی بھی شفاف تحقیقات کے بنیادی قانونی تقاضے ہیں۔ ڈاکٹر چوہدری کے مطابق، کامسٹیک ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو سفارتی استثنیٰ کا حامل ہے، لہذا صدرِ پاکستان کا اس ادارے کے سربراہ کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرنا او آئی سی کے طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایوانِ صدر کو ان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور وہ اس رپورٹ کو قانونی عدالتوں میں چیلنج کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔