Pakistan
میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت اور لواحقین میں ٹھن گئی
سندھ حکومت نے میر رضا قتل کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقتول کے لواحقین اور ان کے وکیل جبران ناصر نے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے پیر کو سندھ ہائی کورٹ میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے قیام کی استدعا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سندھ حکومت نے کراچی کے رہائشی میر رضا علی کے پراسرار قتل کیس کی تحقیقات کو غیر جانبدارانہ بنانے کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس کمیشن کا مقصد یہ تعین کرنا ہوگا کہ آیا کیس کی تفتیش قانون کے مطابق اور شفاف طریقے سے کی جا رہی ہے یا نہیں۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ پولیس افسران، میڈیکو لیگل آفیسرز یا کسی بھی متعلقہ عہدیدار کی غفلت یا ثبوتوں کو مسخ کرنے جیسے اقدامات کی تحقیقات کر سکے اور اپنی رپورٹ 30 روز کے اندر پیش کرے۔
تاہم، حکومت کے اس فیصلے کے اعلان کے فوراً بعد مقتول کے لواحقین اور ان کے قانونی مشیر جبران ناصر نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جبران ناصر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ایکس' پر اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر یکطرفہ فیصلہ کیا ہے، جس کی حیثیت مشکوک ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پولیس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک مجسٹریٹ کے پاس جمع نہیں ہوئی تو حکومت نے جوڈیشل کمیشن کا اعلان کس بنیاد پر کیا؟ لواحقین کا موقف ہے کہ انہیں اس تفتیشی عمل پر بالکل اعتماد نہیں ہے اور وہ حکومت سے کسی جوڈیشل کمیشن کے بجائے ایک بااختیار جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس میں دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی شامل ہوں۔
مقتول میر رضا کی ہمشیرہ علشبہ نے ایک ویڈیو پیغام میں حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم میڈیا کے ذریعے اس فیصلے سے آگاہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم شروع دن سے ہی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں پولیس کی تحقیقات پر تحفظات ہیں، اس لیے ہمیں جے آئی ٹی چاہیے جو انصاف فراہم کر سکے۔ واضح رہے کہ 25 سالہ میر رضا علی، جو کہ آئی بی اے کے گریجویٹ تھے، 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ ابتدائی طور پر پولیس نے اسے خودکشی قرار دینے کی کوشش کی، تاہم لواحقین کے مطالبے پر جب لاش کو قبر کشائی کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا گیا تو میڈیکل بورڈ نے انکشاف کیا کہ مقتول کو پشت پر گولی ماری گئی تھی، جس سے خودکشی کا نظریہ غلط ثابت ہو گیا۔
اب یہ معاملہ عدالت میں داخل ہو چکا ہے جہاں پیر کے روز لواحقین کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں باقاعدہ درخواست دائر کی جائے گی۔ قانون دانوں کا ماننا ہے کہ اس معاملے میں میڈیکو لیگل رپورٹوں میں تضاد اور پولیس کی ابتدائی غفلت نے کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سندھ ہائی کورٹ جوڈیشل کمیشن کے قیام اور جے آئی ٹی کے مطالبے پر کیا فیصلہ سناتی ہے، کیونکہ میر رضا کے والدین گزشتہ کئی دنوں سے انصاف کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور وزیراعلیٰ سندھ سے براہ راست نگرانی کی اپیل بھی کر چکے تھے۔