LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں صوبائی تقسیم اور آئینی بحران: ایک تجزیہ

News Image
موجودہ حکومت کی جانب سے صوبائی ڈھانچے میں تبدیلی اور انتظامی اکائیاں بنانے کی تجاویز ملکی تاریخ کے سنگین نتائج کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انتظامی بہتری نہیں بلکہ سیاسی کنٹرول حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔
آج کل پاکستان میں ہائبرڈ حکومت کی جانب سے ملک کے آئینی طور پر طے شدہ صوبائی ڈھانچے کو تبدیل کرنے اور انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانے پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس خیال کو فروخت کرنے کے لیے حکومتی ترجمانوں کی جانب سے کئی طرح کے دلائل پیش کیے جا رہے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات ملکی مسائل کا فوری حل اور حکمرانی میں بہتری کا باعث بنیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اہم معاملے پر میڈیا میں تو بحث جاری ہے لیکن پارلیمنٹ میں ابھی تک اس پر کوئی سنجیدہ غور و فکر نہیں ہوا، جو کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ قانون سازی کے عمل کو تیزی سے، اکثر آدھی رات کو اور بغیر کسی بامعنی بحث کے مکمل کرنا اس اسمبلی کا معمول بن چکا ہے۔ دریں اثنا، قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ 'انتظامی تبدیلیوں' کے نام پر مزید تبدیلیاں لائی جا سکیں۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جب بھی حکمرانوں نے نظام کو بدلنے کی کوشش کی، نتائج سیاسی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آئے۔ ملک میں پارلیمانی، صدارتی، نیم صدارتی نظاموں سے لے کر براہ راست فوجی حکمرانی اور حال ہی میں 'ہائبرڈ ماڈل' تک کے تجربات کیے جا چکے ہیں۔ ان تمام تجربات کے باوجود، وفاقی نظام میں صوبوں کی حیثیت اور حقوق ہمیشہ متنازع رہے ہیں۔ ماضی میں 'ون یونٹ' کا قیام ایک ایسا ہی سیاسی تجربہ تھا جس کا مقصد آبادی کے لحاظ سے بڑے صوبے کے مقابلے میں توازن قائم کرنا تھا، لیکن اس کے نتائج تباہ کن ثابت ہوئے۔ اس اقدام نے نہ صرف وفاقی کردار کو کمزور کیا بلکہ چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی کو جنم دیا، جس کے اثرات بالاخر 1971 میں ملک کے دو لخت ہونے کی صورت میں سامنے آئے۔ آج کی صورتحال میں بھی وہی پرانی سوچ کارفرما نظر آتی ہے۔ 1973 کا آئین وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرتا ہے، جس کی 18ویں ترمیم کے ذریعے مزید توثیق کی گئی۔ چھوٹے صوبے طویل عرصے سے پنجاب کے سیاسی غلبے، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ ان مسائل کا حل انتظامی اکائیوں کی تقسیم نہیں بلکہ وفاقیت کی مضبوطی اور صوبائی خودمختاری کا مکمل احترام ہے۔ بلوچستان میں جاری شورش اور دیگر علاقوں میں پایا جانے والا احساس محرومی اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکزی سطح پر طاقت کا ارتکاز ملکی یکجہتی کے لیے خطرہ ہے۔ آخر میں، یہ بات واضح ہے کہ انتظامی اصلاحات کے نام پر صوبائی حدود کو چھیڑنا ایک خطرناک کھیل ثابت ہو سکتا ہے۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ ایسی تبدیلیاں اصلاحات کے بجائے صرف سیاسی کنٹرول اور حکمران اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے کی جاتی رہی ہیں۔ اگر حکومت واقعی بہتری چاہتی ہے تو اسے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے صوبوں کے حقوق کو یقینی بنانا چاہیے، نہ کہ نئے تنازعات کو جنم دے کر ملک کو مزید تقسیم کی طرف دھکیلنا چاہیے۔ حقیقی بہتری کے لیے ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا اور وفاقی اصولوں پر کاربند رہنا ہی واحد راستہ ہے۔