Politics
پاکستان میں خواتین کی قیادت، مسائل اور سیاسی جدوجہد
پاکستان میں خواتین نے سیاست اور سماجی شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے لیکن انہیں آج بھی صنفی امتیاز اور قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ملک میں سیاسی بنیادوں پر خواتین کی گرفتاریاں اور آن لائن ہراسانی کے واقعات خواتین کی قیادت کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔
پاکستان میں خواتین کی قیادت کا سفر ہمیشہ سے نشیب و فراز کا شکار رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان صنفی امتیاز اور خواتین کو بااختیار بنانے کے عالمی اشاریوں میں پیچھے ہے، مگر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستانی خواتین نے ہر دور میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ مادرِ ملت فاطمہ جناح سے لے کر بے نظیر بھٹو تک، جنہوں نے پہلی بار کسی مسلم ملک کی وزارت عظمیٰ سنبھالی، پاکستانی خواتین نے آمریت کے خلاف جدوجہد اور پارلیمانی سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج ہیں، جبکہ مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر موقع ملے تو پاکستانی خواتین کسی بھی شعبے میں مردوں سے پیچھے نہیں۔
تاہم، ان کامیابیوں کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی وابستگی رکھنے والی خواتین آج تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کی خواتین رہنماؤں کی جیل میں قید اور انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری ہازر سمیت کئی خواتین کا طویل سزائیں کاٹنا ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ یہ گرفتاریاں نہ صرف ان خواتین کے لیے بلکہ نئی نسل کے لیے بھی ایک منفی پیغام ہیں، جو سیاست میں آنے کا خواب دیکھتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسی کارروائیاں معاشرے میں رچی بسی پدر شاہی سوچ کی عکاس ہیں، جہاں بااختیار خواتین کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ الیکشن مہمات کے دوران خواتین سیاستدانوں کے خلاف ڈیجیٹل ڈس انفارمیشن اور ڈیپ فیک ویڈیوز کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جو خواتین کو عوامی حلقوں سے دور رکھنے کی سازش محسوس ہوتا ہے۔
مزید برآں، سائبر کرائم قوانین کا غلط استعمال بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ پیکا (PECA) ایکٹ، جسے خواتین کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا، اب اکثر انہی کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ آن لائن ہراسانی اور سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کے واقعات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ یہ جان لیوا حملوں میں بدل رہے ہیں۔ جب خواتین کو ان کے جائز حقوق مانگنے یا آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا جاتا ہے، تو اس سے پورے معاشرے کا اخلاقی ڈھانچہ کمزور ہوتا ہے۔ پڑوسی ممالک کی صورتحال کو دیکھیں تو پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ خطے میں صنفی برابری اور خواتین کی قیادت کے لیے ایک روشن مثال بنے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی انتقام کا سلسلہ بند ہو اور خواتین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
آخر میں، آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25 حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کرے۔ موجودہ دور میں، جبکہ صوبائی کابینہ میں خواتین کی نمائندگی انتہائی کم ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں زیادہ سے زیادہ شامل کیا جائے۔ خواتین سیاسی قیدیوں کی رہائی اور صنفی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کا خاتمہ ہی ایک منصفانہ اور ترقی پسند معاشرے کی ضمانت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اپنی نصف آبادی کو کس طرح بااختیار بناتے ہیں اور انہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کس حد تک یقینی بناتے ہیں۔