Technology
سیمسنگ کی نئی 20 انچ اسٹریچ ایبل OLED ٹیکنالوجی متعارف
سام سنگ ڈسپلے نے بوسان میں منعقدہ آئی ایم آئی ڈی 2026 نمائش کے دوران اپنی جدید ترین 20 انچ کی اسٹریچ ایبل او ایل ای ڈی اسکرین متعارف کرائی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل کے لچکدار ڈیوائسز اور فولڈ ایبل ڈسپلے کی دنیا میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
سام سنگ ڈسپلے نے جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقد ہونے والی معروف ٹیکنالوجی نمائش 'آئی ایم آئی ڈی 2026' (IMID 2026) کے دوران اپنی جدید ترین اور انقلابی اسٹریچ ایبل (لچکدار) او ایل ای ڈی اسکرین متعارف کروا دی ہے۔ اس نمائش میں کمپنی نے 20 انچ کے ایک بڑے سائز کے ڈسپلے کو نمائش کے لیے پیش کیا جو نہ صرف اپنی شکل تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ کسی بھی سطح پر پھیلائے جانے کے بعد بھی اپنی بہترین ویژول کوالٹی کو برقرار رکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں اسمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور پہننے کے قابل ڈیوائسز کے ڈیزائن میں بنیادی تبدیلیاں لائے گی۔
اس تقریب کے دوران سام سنگ نے 'وائیڈ ویو او ایل ای ڈی' (Wide View OLED) ٹیکنالوجی پر بھی روشنی ڈالی، جسے خاص طور پر اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ ہر زاویے سے واضح تصاویر اور رنگوں کی درست نمائش کر سکے۔ اسٹریچ ایبل ڈسپلے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اسے صارف اپنی ضرورت کے مطابق کھینچ کر بڑا کر سکتا ہے، جس کے بعد اس کا ریزولیوشن اور پکسل ڈینسٹی متاثر نہیں ہوتی۔ یہ پیش رفت فولڈ ایبل اسکرینوں کے بعد ڈسپلے انڈسٹری میں ایک اگلا بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں ایسے آلات کی راہ ہموار ہوگی جنہیں ضرورت کے وقت لپیٹا یا پھیلایا جا سکے گا۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریچ ایبل OLED اسکرینوں کی تیاری میں درپیش سب سے بڑی چیلنج پائیداری اور مٹیریل کی لچک تھی، تاہم سام سنگ کا یہ نیا ماڈل ان مسائل پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب نظر آتا ہے۔ کمپنی کے انجینئرز نے ایسے خاص پولیمر اور مٹیریلز کا استعمال کیا ہے جو بار بار کھینچے جانے کے باوجود خراب نہیں ہوتے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کی کمرشل سطح پر بڑے پیمانے پر پیداوار میں ابھی کچھ وقت درکار ہے، لیکن اس نمائش نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مستقبل کے اسکرین ڈسپلے آج کے روایتی اسکرینوں سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ لچکدار ہوں گے۔ سام سنگ کی جانب سے یہ اعلان ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز ہے کہ کس طرح مستقبل میں ڈیوائسز کی ساخت انسانی ضروریات کے مطابق تبدیل ہو سکے گی۔