Health
عالمی سطح پر بچوں کا موٹاپا: ایک سنگین طبی چیلنج اور اسباب
ایک حالیہ عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بچوں میں موٹاپے کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اب کم وزن بچوں کے مقابلے میں زیادہ وزن والے بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ صحت عامہ کا بحران اب صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہیں بلکہ غریب ممالک میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔
جدید طبی تحقیق اور عالمی ادارہ صحت کی حالیہ رپورٹس نے دنیا بھر میں بچوں کے موٹاپے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک وقت تھا جب غذائی قلت اور بچوں کا کم وزن ہونا صحت کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں اب کم وزن بچوں کے مقابلے میں موٹے بچوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ رجحان صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اب کم آمدنی والے اور غریب ممالک میں بھی موٹاپے کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق 1980 کی دہائی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اب ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
اس صورتحال کے پیچھے سب سے بڑی وجہ ہماری تبدیل ہوتی طرز زندگی اور ناقص غذائی عادات ہیں۔ بچوں میں جنک فوڈ، چینی سے بھرپور مشروبات، اور بازاری کھانوں کا بڑھتا ہوا رجحان موٹاپے کی بنیادی جڑ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جسمانی سرگرمیوں کا فقدان، مسلسل اسکرین ٹائم، اور گھر سے باہر کھیل کود کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے بچوں کی توانائی خرچ نہیں ہو پاتی، جو جسم میں چربی کے طور پر جمع ہو جاتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں جہاں لوگ صحت بخش غذا کے بجائے سستی اور پروسیسڈ خوراک کی طرف راغب ہو رہے ہیں، وہاں یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ بچپن کا موٹاپا آگے چل کر ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، اور دل کی بیماریوں جیسی دائمی بیماریوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر بروقت بچوں کی خوراک اور روزمرہ کے معمولات پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والی نسلیں شدید طبی مسائل کا شکار ہو سکتی ہیں۔ اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو اسکولوں میں صحت بخش کھانے کی دستیابی کو یقینی بنائیں اور بچوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دیں۔
والدین کا کردار اس حوالے سے سب سے زیادہ اہم ہے۔ بچوں کو متوازن غذا کی اہمیت سمجھانا اور انہیں گھر کے بنے ہوئے کھانوں کی طرف مائل کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ، اسکولوں اور کمیونٹی سینٹرز میں بیداری مہمات چلانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ والدین اور اساتذہ بچوں میں وزن کے بڑھتے ہوئے خطرات کو پہچان سکیں اور بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔ صرف اجتماعی کوششوں سے ہی اس عالمی وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔