Technology
گراؤنڈ نیوز کیا ہے؟ میڈیا کی غیر جانبداری اور حقائق کی جانچ
گراؤنڈ نیوز ایک نیا نیوز پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد میڈیا کے تعصبات کو بے نقاب کرنا اور خبروں کے حقائق کی جانچ کرنا ہے۔ تاہم، اس کے طریقہ کار پر ماہرین اور تجزیہ کاروں کی جانب سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
آن لائن نیوز پلیٹ فارم 'گراؤنڈ نیوز' نے حالیہ برسوں میں میڈیا کی دنیا میں کافی توجہ حاصل کی ہے۔ اس پلیٹ فارم کی بنیاد 2018 میں ناسا کی سابق انجینئر ہرلین کور اور سکھ سنگھ نے رکھی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ خبروں کے ایسے ایگریگیٹرز تیار کیے جائیں جو قارئین کو مختلف زاویوں سے خبریں فراہم کریں تاکہ میڈیا کے تعصبات کو کم کیا جا سکے۔ اس پلیٹ فارم کی ظاہری شکل ایک بہترین آئیڈیا معلوم ہوتی ہے، جہاں ایک ہی خبر کو مختلف ویب سائٹس پر دیکھے جانے والے مختلف نقطہ نظر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
تاہم، حالیہ دنوں میں اس پلیٹ فارم کے کام کرنے کے طریقہ کار اور اس کے دعووں پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گراؤنڈ نیوز کا 'فیکٹولیٹی' یا حقائق کی جانچ کا عمل مبہم ہے۔ ناقدین اس بات پر سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک الگورتھم کس طرح یہ طے کر سکتا ہے کہ کون سی خبر کتنی غیر جانبدار ہے یا اس میں کتنی سچائی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، خبروں کو بائیں بازو یا دائیں بازو کے سیاسی خانوں میں تقسیم کرنے کا طریقہ بھی تنقید کی زد میں ہے، کیونکہ یہ تقسیم اکثر خود پلیٹ فارم کے اپنے معیارات پر مبنی ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے پلیٹ فارمز کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ 'غیر جانبداری' کو ایک تکنیکی میٹرک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ خبروں کی نوعیت اکثر اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ جب آپ کسی خبر کو صرف اعداد و شمار یا الگورتھم کے ذریعے پرکھتے ہیں، تو اس کی سیاق و سباق (context) اور انسانی پہلو اکثر غائب ہو جاتے ہیں۔ گراؤنڈ نیوز کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ اس کا مقصد میڈیا میں شفافیت لانا ہے، لیکن یہ خود ایک ایسی 'بلیک باکس' بنتا جا رہا ہے جہاں یہ سمجھنا مشکل ہے کہ خبروں کی درجہ بندی کیسے کی جا رہی ہے۔
آخر میں، یہ پلیٹ فارم اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں خبروں کی کھپت کس قدر پیچیدہ ہو چکی ہے۔ صارفین کو اب صرف خبریں نہیں پڑھنی پڑتیں بلکہ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ خبر پیش کرنے والا پلیٹ فارم خود کس نظریے کا حامل ہے۔ گراؤنڈ نیوز کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے میڈیا کے تعصب کو ختم کرنے کی کوششیں خود بھی تنقید سے مبرا نہیں ہیں۔ مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ پلیٹ فارم اپنے طریقہ کار کو مزید شفاف بناتا ہے یا تنقید کے بوجھ تلے اپنا اثر کھو دیتا ہے۔