World
برطانیہ میں مجرموں کے لیے پابندیوں کے نئے زونز کا اعلان
برطانیہ میں جیل سے رہا ہونے والے سنگین جنسی اور پرتشدد مجرموں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے ایک نئی اسکیم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ جسٹس سیکرٹری ایلکس مورس کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوامی تحفظ کو یقینی بنانا اور مجرموں کی کڑی نگرانی کرنا ہے۔
برطانیہ کے جسٹس سیکرٹری ایلکس مورس نے اعلان کیا ہے کہ ایک نئی حکومتی اسکیم اکتوبر کے مہینے سے باقاعدہ طور پر شروع کی جائے گی جس کا مقصد سنگین جنسی اور پرتشدد جرائم میں ملوث افراد کی رہائی کے بعد ان کی نقل و حرکت کو انتہائی محدود کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ان مجرموں کو مخصوص 'ری اسٹرکشن زونز' تک محدود رکھا جائے گا تاکہ وہ اپنی رہائی کے بعد معاشرے کے لیے خطرہ نہ بن سکیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، یہ اقدام عوامی تحفظ کو ترجیح دینے کی ایک بڑی کوشش ہے تاکہ خطرناک مجرموں کی نگرانی کو مزید سخت کیا جا سکے۔
اس نئی اسکیم کے تحت جیل سے رہا ہونے والے مخصوص زمرے کے مجرموں کو چند میل کے دائرے تک محدود کیا جا سکے گا، جس سے ان کی بیرونی دنیا سے میل جول پر کڑی نظر رکھنے میں مدد ملے گی۔ جسٹس سیکرٹری کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد جرائم کی شرح میں کمی لانا اور عوام کو ان افراد سے محفوظ رکھنا ہے جو ماضی میں سنگین نوعیت کے پرتشدد واقعات میں ملوث رہے ہیں۔ حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ الیکٹرانک مانیٹرنگ اور جغرافیائی حدود کا تعین کرنے سے ان مجرموں کی دوبارہ جرائم کی طرف مائل ہونے کے امکانات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
اس پالیسی پر عملدرآمد کے لیے ٹیکنالوجی کا جدید استعمال کیا جائے گا، جس میں جی پی ایس ٹریکنگ اور دیگر نگرانی کے آلات شامل ہوں گے تاکہ مجرموں کی لمحہ بہ لمحہ نقل و حرکت کی نگرانی ممکن ہو۔ اگر کوئی مجرم اپنے مختص کردہ زون سے باہر جانے کی کوشش کرتا ہے تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو الرٹ موصول ہو جائے گا، جس پر فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ماہرینِ قانون اس اقدام کو ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے سماجی اور انسانی حقوق پر اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا۔
حکومت کا یہ اقدام طویل عرصے سے زیر غور تھا اور اب اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اکتوبر سے شروع ہونے والی اس اسکیم کو ابتدائی طور پر مخصوص علاقوں میں آزمائشی بنیادوں پر لاگو کیا جائے گا، جس کے بعد اس کے نتائج کی روشنی میں اسے ملک بھر میں پھیلانے کا امکان ہے۔ جسٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، عوامی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ رہائی پانے والے خطرناک مجرموں کی نگرانی کے لیے جدید ترین ذرائع استعمال کیے جائیں۔