Technology
ایکس اے آئی کا منیسوٹا کے قوانین کے خلاف قانونی اقدام
مصنوعی ذہانت کے ادارے ایکس اے آئی نے منیسوٹا کے اٹارنی جنرل کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے تاکہ 'نڈی فیکیشن' ایپس سے متعلق سخت قوانین کو چیلنج کیا جا سکے۔ اس قانون کی وجہ سے کمپنی کو اپنے امیج ایڈیٹنگ فیچرز محدود کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نامور کمپنی ایکس اے آئی نے منیسوٹا کے اٹارنی جنرل کیتھ ایلیسن کے خلاف باقاعدہ مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ یہ قانونی چارہ جوئی مئی کے مہینے میں منظور کیے جانے والے ایک ایسے قانون کے تناظر میں کی گئی ہے جو وسیع پیمانے پر 'نڈی فیکیشن' ایپس کو ہدف بناتا ہے۔ کمپنی کا موقف ہے کہ اس قانون کے اندر موجود سزاؤں اور جرمانوں سے متعلق سخت دفعات نے انہیں اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کے امیج ایڈیٹنگ ٹولز کو محدود کریں۔ ایکس اے آئی کے مطابق، قانون کا دائرہ کار اس قدر وسیع اور مبہم ہے کہ اس سے جائز اور تخلیقی ڈیجیٹل سرگرمیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازع مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز اور ریاستی قوانین کے درمیان ایک اہم قانونی محاذ آرائی کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ کمپنی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس قانون کے نفاذ کو روکا جائے تاکہ صارفین کے حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ ممکن ہو سکے، جبکہ دوسری طرف ریاستی حکام کا اصرار ہے کہ یہ قوانین شہریوں کی پرائیویسی اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ اس مقدمے کے نتائج آنے والے وقت میں پوری ٹیک انڈسٹری اور جنریٹیو اے آئی کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کریں گے، کیونکہ دنیا بھر میں اس طرح کے مواد کے ضابطہ کار پر بحث جاری ہے۔