Pakistan
صدر آصف علی زرداری کی سعودی سفیر سے ملاقات: تعلقات میں بہتری پر زور
صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین معاشی اور سفارتی تعاون بڑھانے کے لیے سفیر کی کوششوں کا اعتراف کیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے سعودی عرب کے سبکدوش ہونے والے سفیر نواف بن سعید المالکی سے ایوانِ صدر میں الوداعی ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور تاریخی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں سعودی سفیر کی گراں قدر خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات مذہب، ثقافت اور باہمی احترام کے اٹوٹ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، اور سعودی سفیر نے اپنے دورِ تعیناتی کے دوران ان رشتوں کو مزید مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کا پاکستان کی اقتصادی ترقی میں ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے اور موجودہ دور میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے سعودی سفیر کی جانب سے پاکستان میں مختلف فلاحی منصوبوں اور سفارتی سطح پر کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششیں دونوں برادر ممالک کے عوام کے لیے خوشحالی کا باعث بنی ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور مستقبل میں بھی اس شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
ملاقات کے دوران سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے صدرِ مملکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قیام ان کے لیے ایک یادگار تجربہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت اور عوام پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے کام کرنا ان کے لیے باعثِ افتخار رہا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سعودی عرب کی قیادت پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں اپنے برادر ملک کا ساتھ دیتی رہے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے بھی سعودی سفیر کی خدمات کو سراہا تھا۔ سعودی سفیر نے اپنے دورِ تعیناتی میں نہ صرف سیاسی بلکہ عوامی سطح پر بھی تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے انتھک محنت کی ہے، جس کا اعتراف ملک کی تمام اہم شخصیات کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتوں کا مظہر ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے وقتوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔