World
شام اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات: اردن میں اہم پیش رفت
شام اور اسرائیل نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اردن میں امریکی ثالثی میں خفیہ مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ یہ پیش رفت حالیہ فضائی حملوں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔
خطے میں جاری تناؤ کو کم کرنے کی ایک غیر معمولی کوشش کے تحت، شام اور اسرائیل کے اعلیٰ حکام نے اردن میں ملاقات کی ہے۔ یہ مذاکرات امریکی ثالثی میں کیے گئے جن کا بنیادی مقصد سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور کسی بڑے تصادم کو روکنا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جانب سے شام کے مختلف علاقوں میں کیے جانے والے فضائی حملوں کے بعد حالات کافی کشیدہ ہو گئے تھے، جس پر عالمی برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں دونوں فریقین نے سیکیورٹی امور اور سرحدی استحکام پر تبادلہ خیال کیا۔
اس پیش رفت کے حوالے سے بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ اور شامی وزیر خارجہ کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ رابطے ہوئے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے مابین طویل عرصے سے عدم اعتماد کی فضا قائم ہے، لیکن اس کے باوجود سفارتی سطح پر یہ ملاقاتیں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ کا اس عمل میں کردار انتہائی کلیدی ہے، کیونکہ واشنگٹن خطے میں اپنی اتحادیوں کی سیکیورٹی اور شام کے سیاسی استحکام کے حوالے سے متوازن پالیسی اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
شامی وزارت خارجہ کے حکام نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ اگرچہ اسرائیل کے ساتھ گہرا عدم اعتماد موجود ہے، تاہم کشیدگی کو محدود رکھنے کے لیے سیکیورٹی مذاکرات کا تسلسل ضروری ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے بھی اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت ان رابطوں کو اہم قرار دیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے پیش نظر ان مذاکرات کا مقصد براہ راست جنگ کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔ یہ مذاکرات اس وقت ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں ترکیہ اور دیگر علاقائی طاقتوں کا کردار بھی تیزی سے بدل رہا ہے، جس نے سیاسی مساوات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
مستقبل میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کسی پائیدار امن معاہدے یا جنگ بندی کی طرف پیش قدمی ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال، دونوں فریقین نے انتہائی رازداری کے ساتھ ان امور پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ خطے میں کسی بھی غیر متوقع تصادم کو روکا جا سکے۔ عالمی مبصرین اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست کے تناظر میں ایک اہم اور حساس قدم قرار دے رہے ہیں جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں واضح ہو سکیں گے۔