LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں سکوں کی قلت کی حقیقت کیا ہے؟ ایک تفصیلی جائزہ

News Image
پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے سکوں کی مارکیٹ سے نایاب ہونے کے معاملے نے ماہرین معاشیات اور عام شہریوں کو تجسس میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے سکوں کی کمی کی وجوہات تلاش کرنے کے لیے تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے چھوٹے سکوں کی مارکیٹ سے گمشدگی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ شہری جب بھی سودا سلف خریدنے بازار جاتے ہیں تو اکثر دکانداروں کی جانب سے سکے نہ ہونے کا شکوہ سننے کو ملتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عام لوگوں کے لیے لین دین میں مشکلات پیدا کر دی ہیں بلکہ ماہرینِ معیشت بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ آخر کروڑوں کی تعداد میں جاری کیے گئے سکے اچانک کہاں غائب ہو گئے؟ ایک نظریہ یہ ہے کہ ان سکوں کو بنانے میں استعمال ہونے والی دھات کی مارکیٹ ویلیو اب سکوں کی ظاہری قیمت سے زیادہ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے لوگ انہیں پگھلا کر دھات فروخت کرنے کے منافع بخش کاروبار میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے وقتاً فوقتاً نئے سکے جاری کیے جاتے رہے ہیں، جن میں ایک، دو، پانچ اور دس روپے کے سکے شامل ہیں۔ تاہم، مارکیٹ میں ان کی عدم دستیابی کا مطلب یہ ہے کہ یا تو یہ سکے لوگوں کے گھروں میں پڑے ہیں یا پھر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انہیں گردش سے باہر کر دیا گیا ہے۔ کچھ تجارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ کباڑ کا کاروبار کرنے والے بعض افراد ان سکوں کو بڑی مقدار میں اکٹھا کر رہے ہیں تاکہ ان سے دھاتی سکریپ تیار کیا جا سکے۔ یہ ایک تشویشناک رجحان ہے کیونکہ کسی بھی ملک کی کرنسی کا اس طرح ضائع ہونا قومی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ دوسری جانب، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان نے بھی سکوں کی مانگ اور سپلائی کے توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ شہری اب کیش کے بجائے موبائل ایپس اور کارڈز کا استعمال زیادہ کر رہے ہیں، تاہم روزمرہ کے چھوٹے لین دین میں اب بھی سکوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کو اب اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا سکوں کی سپلائی میں کمی واقعی دھات کی سمگلنگ کا نتیجہ ہے یا پھر بینکنگ نظام میں کوئی تکنیکی خلا موجود ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس معاملے کی تحقیقات کرائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا یہ محض انتظامی کوتاہی ہے یا سکوں کی چوری کا کوئی منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ آخرکار، اگر سکوں کی قلت کا مسئلہ حل نہ ہوا تو دکانداروں اور خریداروں کے درمیان جھگڑے بڑھ سکتے ہیں اور چھوٹی اشیاء کی قیمتوں میں غیر اعلانیہ اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ اکثر دکاندار سکے نہ ہونے کا بہانہ بنا کر بقایا رقم دینے میں ٹال مٹول کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ میں سکوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے اور اگر ضرورت پڑے تو سکے بنانے کے لیے استعمال ہونے والی دھات کو تبدیل کرنے یا اسے مزید پائیدار بنانے پر غور کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی شعور اجاگر کرنا ضروری ہے کہ سکوں کو ضائع کرنا یا انہیں پگھلانا قانوناً جرم ہو سکتا ہے۔