LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا امریکہ کی نئی پابندیوں پر سخت موقف

News Image
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نئی امریکی پابندیوں کو ایک پرانی فلم کی طرح قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی یہ پالیسی ناکام ثابت ہو چکی ہے اور اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی تازہ ترین پابندیوں کے اعلان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں ایک بے اثر اور پرانی حکمت عملی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی ایک ہی فلم بار بار دیکھی جا رہی ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا یہ تسلسل کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ یہ واشنگٹن کی دہائیوں پر محیط ناکام خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے۔ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ تہران کے خلاف پابندیاں لگانے کا امریکی طریقہ کار اب اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات سے ایران کی داخلی ترقی یا خارجہ تعلقات پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ ان کے مطابق، ایران نے برسوں سے ان پابندیوں کے باوجود اپنی معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کر لی ہے، اس لیے ایسی دھمکیاں اب ایران کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور امریکہ کا یہ دباؤ الٹا اثر دکھائے گا۔ واضح رہے کہ امریکی حکام کی جانب سے پیر کے روز نئی پابندیوں کا اعلان متوقع تھا، جس پر تہران نے بروقت اپنا موقف پیش کیا۔ عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کا یہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے اور دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات میں بہتری کے بجائے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران کا یہ بیان نہ صرف عالمی برادری کو اپنا موقف واضح کرنے کے لیے ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ تہران مغربی دباؤ کے باوجود اپنے علاقائی کردار پر قائم رہے گا۔ آخر میں، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کسی بھی قسم کے جارحانہ اقتصادی اقدامات کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عائد کی جانے والی یہ پابندیاں صرف اور صرف عالمی نظام میں امریکی ساکھ کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔ ایران کا اب یہ موقف ہے کہ وہ اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ شراکت داری کو مزید فروغ دے گا تاکہ امریکی دباؤ کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔