LIVE
Loading Breaking News...

لاہور میں ای چالان کی عدم ادائیگی پر شناختی کارڈ بلاک کرنے کی تجویز

News Image
لاہور کے چیف ٹریفک آفیسر نے ای چالان کی ریکوری کے لیے شہریوں کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور گاڑیوں کی خرید و فروخت کو مشروط کرنے کی تجویز دی ہے۔ قانونی ماہرین نے اس اقدام کو آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
لاہور میں ٹریفک پولیس حکام کی جانب سے ای چالان کی رقوم کی وصولی کو یقینی بنانے کے لیے ایک ایسا متنازعہ اقدام سامنے آیا ہے جس نے قانونی ماہرین اور شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور، سید عبدالرحیم شیرازی کی جانب سے اعلیٰ حکام کو بھیجی گئی ایک سفارش میں تجویز دی گئی ہے کہ ای چالان کے نادہندگان کے خلاف شکنجہ کسنے کے لیے ان کے شناختی کارڈز (CNICs) کے اجرا، پاسپورٹ کی تجدید، گاڑیوں کی خرید و فروخت اور پولیس خدمت مراکز کی اہم خدمات کو ای چالان کی ادائیگی سے مشروط کر دیا جائے۔ پولیس حکام کا موقف ہے کہ اس اقدام سے سرکاری محصولات میں اضافہ ہوگا اور ای چالان کی ریکوری کا عمل آسان ہو جائے گا۔ ٹریفک پولیس کے ترجمان نے اس تجویز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ ای چالان کی عدم ادائیگی کرنے والوں کو ڈسپلن میں لانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں باضابطہ مراسلہ ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، اس طریقہ کار سے نہ صرف ریکوری کے عمل میں تیزی آئے گی بلکہ عدالتوں میں زیر التواء کیسز کا بوجھ بھی کم ہوگا۔ تاہم، یہ تجویز سامنے آتے ہی پولیس کے اپنے حلقوں اور قانونی ماہرین کی جانب سے اسے ایک غیر آئینی اور غیر ضروری اقدام قرار دیا گیا ہے، جسے شہریوں کے بنیادی حقوق پر براہ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر قانون دانوں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے شہریوں کے آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سینئر وکیل عمیس یونس نے اس تجویز کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون کسی بھی افسر کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ ای چالان کے تنازعہ پر کسی شہری کا شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بلاک کرے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے 18 فروری 2026 کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ واضح کر چکی ہے کہ حتیٰ کہ عدالتی ڈگریوں کی وصولی کے لیے بھی کسی کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ای چالان محض ایک الزام ہے، عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ نہیں، اس لیے اسے بنیاد بنا کر شہریوں کو بنیادی سہولیات سے محروم کرنا سراسر غیر قانونی ہے۔ قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنیادی دستاویزات ہیں جنہیں کسی معمولی جرمانوں کی وصولی کے لیے استعمال کرنا کسی صورت جائز نہیں۔ وکیل عمیس یونس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس متنازعہ انتظامی حکم کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں تاکہ شہریوں کے دستوری حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ قانونی حلقوں میں اس بحث نے زور پکڑ لیا ہے کہ کیا انتظامیہ کو اپنے محصولات کی وصولی کے لیے شہریوں کے قانونی اور سماجی حقوق کو داؤ پر لگانے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ عوام اب اس معاملے پر عدالتی فیصلے کے منتظر ہیں جو یہ واضح کرے گا کہ آیا پولیس انتظامیہ کا یہ اقدام آئین کے مطابق ہے یا نہیں۔