LIVE
Loading Breaking News...

جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ کا اعلان

News Image
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر پیٹرولیم لیوی واپس نہ لی گئی تو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال اور اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کی جانب سے ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر پیٹرولیم لیوی کو فی الفور واپس نہ لیا گیا تو پارٹی اپنے جاری دھرنوں کو ملک گیر تحریک میں تبدیل کر دے گی، جس کے نتیجے میں 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال اور اسلام آباد کی جانب ایک بڑا مارچ کیا جائے گا۔ لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت میں ان کا دھرنا آٹھویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور یہ تب تک جاری رہے گا جب تک حکومت عوام پر بوجھ بننے والی پیٹرولیم لیوی کو ختم نہیں کرتی۔ انہوں نے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے جبکہ حکمران اشرافیہ اپنی مراعات کو بچانے میں مصروف ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت کو ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لیٹر کمی کرنا پڑی، تاہم یہ اقدامات ناکافی ہیں۔ انہوں نے آئل مافیا اور شوگر مافیا کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومتی سرپرستی میں چینی کی درآمد اور ذخیرہ اندوزی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 12 ربیع الاول کے موقع پر دھرنے کے مقامات پر عید میلاد النبی مذہبی جوش و جذبے سے منائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مطالبات کی منظوری تک کسی صورت پیچھے نہیں ہٹا جائے گا اور احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔ دوسری جانب اسلام آباد اور کراچی میں بھی جماعت اسلامی کے دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے مہنگے معاہدوں کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مقامی رہنماؤں نے کہا کہ سندھ حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ ملی بھگت کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے ان کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہے۔ بلوچستان میں بھی صورتحال پر قابو پانے کے لیے جماعت اسلامی نے 29 اگست سے کوئٹہ میں گورنر ہاؤس کے باہر غیر معینہ مدت تک دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی بلوچستان کے نائب صدر زاہد اختر بلوچ نے کہا کہ دھرنے کا مقصد حکومت کے جھوٹے وعدوں، پیٹرولیم لیوی میں اضافے اور صوبے میں بدامنی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، پارٹی کا احتجاج ملک کے ہر کونے میں جاری رہے گا اور حکومت کو عوام کا خون نچوڑنے والی پالیسیاں بدلنا ہوں گی۔