LIVE
Loading Breaking News...

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا خاتمہ اور پاکستان کی معیشت پر اثرات

News Image
گزشتہ چند برسوں میں افغانستان کی جانب سے ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کی طرف تجارتی منتقلی کے باعث پاکستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہ صورتحال خیبر پختونخوا کے صنعتی اور کاروباری ایکو سسٹم کے لیے شدید خطرے کی گھنٹی ہے۔
افغانستان میں طالبان کی واپسی کے پانچ برس بعد، پاکستان اور افغانستان کے مابین اقتصادی تعلقات ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا، بالخصوص پشاور کے لیے یہ صرف ایک دو طرفہ تجارتی معاملہ نہیں بلکہ صنعتوں کے بقا اور ان کی مسابقت کا سوال بن چکا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2023 میں ریکارڈ سطح پر پہنچنے والی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، جو تقریباً 1 لاکھ 2 ہزار سے زائد کنٹینرز پر مشتمل تھی، اب تیزی سے سکڑ رہی ہے۔ مالی سال 2026 تک یہ تعداد کم ہو کر صرف 11 ہزار 592 کنٹینرز تک محدود رہ گئی ہے۔ یہ گراوٹ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کی اکتوبر 2025 کی سرحدی پابندیاں اس عمل کا واحد سبب نہیں، بلکہ یہ ایک پہلے سے جاری عمل کا تسلسل ہیں جسے حالیہ پالیسیوں نے مزید تیز کر دیا ہے۔ افغانستان اب دانستہ طور پر اپنے تجارتی راستوں کو ایران اور وسطی ایشیا کی طرف منتقل کر رہا ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹس کے مطابق ایرانی کوریڈور اب افغانستان کی درآمدی سپلائی چین کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ پاکستان، جو طویل عرصے سے افغانستان کے لیے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کا مرکزی گیٹ وے تھا، اب اس پوزیشن سے محروم ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں صرف ٹرانزٹ فیس کا ہی نقصان نہیں ہو رہا، بلکہ وہ پورا کمرشل ایکو سسٹم بھی تباہی کے دہانے پر ہے جس میں کراچی کی بندرگاہوں سے لے کر پشاور کے تاجروں، ٹرانسپورٹرز، کلیئرنگ ایجنٹس اور گوداموں کے مالکان شامل تھے۔ خیبر پختونخوا کی صنعتیں، جو پہلے ہی توانائی کی بلند قیمتوں اور نقل و حمل کے اخراجات کا بوجھ اٹھا رہی ہیں، اب افغان مارکیٹ کی طلب میں کمی کے باعث شدید بحران کا شکار ہیں۔ سیمنٹ، تعمیراتی سامان، ادویات اور غذائی اجناس جیسی مصنوعات کا ایک بڑا حصہ افغانستان جاتا تھا، جس کے رکنے سے فیکٹریوں میں پیداوار کم ہو رہی ہے اور بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ زرعی اجناس کی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں، جس سے دونوں جانب کے کاشتکار اور تاجر یکساں طور پر نقصان اٹھا رہے ہیں۔ افغان-پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (APTTA) کو جغرافیائی محل وقوع کو معاشی مواقع میں بدلنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن سکیورٹی خدشات، اسمگلنگ اور ریگولیٹری تنازعات نے اس معاہدے کی افادیت کو ختم کر دیا ہے۔ پاکستان کے خدشات اپنی جگہ جائز ہیں کہ ٹرانزٹ کا سامان ملکی مارکیٹ میں آ کر مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچاتا ہے، تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ تاجروں نے متبادل راستے تلاش کر لیے ہیں۔ ایک بار جب تاجر کسی نئی سپلائی چین کو اپنا لیتے ہیں، تو انہیں دوبارہ پاکستان کی طرف لانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ تجارتی حقیقت نہ صرف قومی معیشت بلکہ صوبائی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔