World
امریکہ کے ایران پر شدید حملے، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ
امریکہ نے اپنے فوجیوں پر ہونے والی حملے کی کوشش کا جواب دیتے ہوئے ایران کے اندر اہداف پر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ اس کشیدگی کے بعد خطے میں جنگ کے دائرہ کار میں وسعت آ گئی ہے اور مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔
واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت انتہائی خطرناک موڑ آ گیا جب امریکی افواج نے ایران کے اندر کئی اہم مقامات پر شدید فضائی حملے کیے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی ایک ناکام کوشش کے فوراً بعد عمل میں آئی۔ امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے اپنے فوجیوں کے تحفظ اور دفاع کے لیے ناگزیر تھے تاکہ دشمن کو مزید اشتعال انگیزی سے روکا جا سکے۔ اس تازہ ترین کارروائی نے خطے میں جاری تنازع کو ایک نئے اور وسیع تر محاذ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کشیدگی کے نتیجے میں خطے کے دیگر ممالک میں بھی ہلچل مچ گئی ہے اور صورتحال انتہائی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے حوالے سے بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن کے مطابق ان حملوں کے ردعمل میں مختلف علاقائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے جنگ کے پھیلاؤ کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ تصادم پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت اور سکیورٹی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سفارتی سطح پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق اب بھی انتہائی تشویشناک بنے ہوئے ہیں۔