LIVE
Loading Breaking News...

اعلیٰ تعلیم کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے تقاضے

News Image
موجودہ دور میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو مالی اور انتظامی سمیت کئی بڑے مسائل کا سامنا ہے جو ملکی پالیسیوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس بحران کی بنیادی وجہ تعلیمی نظام اور عملی زندگی کے درمیان بڑھتا ہوا خلیج ہے۔
دنیا بھر میں یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیمی ادارے آج کل شدید دباؤ کا شکار ہیں اور اکثر خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم نہ صرف عوامی پالیسیوں کا ایک اہم حصہ ہے بلکہ یہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کی سب سے بڑی صنعتوں میں سے ایک شمار کی جاتی ہے۔ تاہم اس شعبے کو درپیش مسائل صرف مالی نہیں ہیں بلکہ ان کی جڑیں گہری اور پیچیدہ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا سب سے بڑا مسئلہ اس کا بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے ساتھ مطابقت نہ رکھنا ہے، جس کی وجہ سے ڈگری یافتہ افراد کو عملی میدان میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تحقیق اور تدریس کے درمیان توازن کا فقدان ایک اور اہم پہلو ہے۔ یونیورسٹیاں اکثر ایسی تحقیق پر توجہ مرکوز کرتی ہیں جن کا عام زندگی یا صنعتی ترقی سے براہ راست تعلق کم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اخراجات میں ہوشربا اضافے نے متوسط طبقے کے لیے معیاری تعلیم کا حصول ایک خواب بنا دیا ہے۔ قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اور گریجویشن کے بعد روزگار کی عدم دستیابی نے اس پورے نظام کی افادیت پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ طلبہ اور والدین اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا یونیورسٹی کی بھاری فیسیں ادا کرنا مستقبل میں بہتر ملازمت کی ضمانت ہے یا نہیں۔ مزید برآں، یونیورسٹیوں میں انتظامی ڈھانچے کی بیوروکریسی اور تعلیمی معیار میں گراوٹ نے بھی صورتحال کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں سب کچھ تیزی سے بدل رہا ہے، روایتی نصاب اب متروک ہوتے جا رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو اب ضرورت ہے کہ وہ اپنے نظام میں ایسی تبدیلیاں لائیں جو طلبہ کو نہ صرف علمی طور پر بلکہ عملی اور تکنیکی مہارتوں سے بھی لیس کریں۔ اگر اعلیٰ تعلیم کے شعبے نے اپنی سمت درست نہ کی، تو یہ معاشرے کی ترقی کے بجائے بیروزگاری اور مایوسی پیدا کرنے والی فیکٹریوں میں بدل جائیں گے، جس کے اثرات طویل مدت تک ملکی معیشت پر مرتب ہوں گے۔