LIVE
Loading Breaking News...

ہفتہ وار مارکیٹ آؤٹ لک: سینسیکس اور نفٹی پر اثر انداز ہونے والے 4 اہم عوامل

News Image
اس ہفتے بھارتی شیئر بازار میں سینسیکس اور نفٹی کا رخ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے طے ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ بانڈ ییلڈ میں اضافے کی وجہ سے محتاط انداز اختیار کریں۔
بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں پیر کے روز ہونے والی کارروائی پر سرمایہ کاروں کی گہری نظریں ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس ہفتے دلال اسٹریٹ پر اتار چڑھاؤ کا امکان ہے جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی حالات اور معاشی اشارے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سطح پر ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے، جس کا براہ راست اثر ایشیائی مارکیٹوں سمیت بھارتی بازاروں پر بھی مرتب ہوتا ہے۔ جب بھی عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے، سرمایہ کار حصص فروخت کرنے یا محتاط رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والا مسلسل ردوبدل مارکیٹ کے لیے ایک اور اہم چیلنج ہے۔ بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملکی مہنگائی اور کمپنیوں کے منافع پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف لاگت میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ روپیہ پر بھی دباؤ ڈالتی ہیں، جس سے سینسیکس اور نفٹی کے انڈیکس پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس ہفتے سرمایہ کار ان قیمتوں پر کڑی نظر رکھیں گے تاکہ مارکیٹ کے مستقبل کے رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ تیسرا اہم عنصر بانڈ ییلڈ (Bond Yields) میں ہونے والا اضافہ ہے، جو اس وقت سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ جب بانڈ ییلڈ میں اضافہ ہوتا ہے تو ایکویٹی مارکیٹ سے سرمایہ نکل کر محفوظ اثاثوں کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے، جس سے شیئر بازار میں مندی دیکھنے کو ملتی ہے۔ سرمایہ کار اب محتاط انداز اختیار کر رہے ہیں اور وہ کمپنیوں کے سہ ماہی نتائج کے ساتھ ساتھ میکرو اکنامک ڈیٹا پر بھی توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا مشورہ ہے کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کاروں کو جلد بازی میں فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ آخر میں، مارکیٹ کا مجموعی رجحان بیرونی سرمایہ کاروں (FIIs) کے رویے پر بھی منحصر ہوگا۔ اگر وہ فروخت جاری رکھتے ہیں تو انڈیکس پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، پیر کے دن کی شروعات عالمی اشاروں کے زیر اثر رہے گی اور سرمایہ کاروں کو اپنی حکمت عملی بناتے وقت تمام جغرافیائی سیاسی اور معاشی عوامل کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا تعین ان 4 عوامل کی بنیاد پر ہی ہوگا، جس میں تیل کی قیمتیں، بانڈ ییلڈ، عالمی کشیدگی اور مقامی معاشی ڈیٹا کلیدی کردار ادا کریں گے۔