World
پاکستان اور ترکیہ کی مشرق وسطیٰ میں سفارتی کوششیں
مبصرین نے مشرق وسطیٰ کے بحران اور غزہ کی صورتحال پر پاکستان اور ترکیہ کی فعال سفارتی کوششوں کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ پاکستانی قیادت نے اس تنازع پر دیگر مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی اہم رابطے کیے ہیں۔
عالمی امور کے مبصرین اور تجزیہ کاروں نے مشرق وسطیٰ کے موجودہ تنازع اور غزہ میں جاری بحران کے تناظر میں پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ سفارتی کوششوں کو بھرپور انداز میں سراہا ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوںبرادر ملکوں کی جانب سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بالخصوص غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مسجد اقصی میں ہونے والی خلاف ورزیوں کے معاملے پر بھی اسلام آباد اور انقرہ کا مؤقف انتہائی واضع اور دوٹوک رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک خطے میں فوری جنگ بندی اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی سمیت خطے کے دیگر اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے بھی کیے ہیں۔ ان رابطوں کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتحال، باہمی دلچسپی کے امور اور غزہ کے مظلوم عوام تک انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیانات میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے مصر، اردن اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی پرزور مذمت کی ہے اور مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں ڈھائے جانے والے مظالم کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مصر کے ساتھ بھی پاکستانی قیادت کی اعلیٰ سطح پر بات چیت ہوئی ہے جس میں علاقائی ترقی اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مسلم دنیا کے اہم ممالک کی یہ سفارتی ہم آہنگی عالمی برادری کو اس بات کا واضح پیغام دیتی ہے کہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی یہ متحرک سفارت کاری نہ صرف مسلم دنیا میں یکجہتی کو فروغ دے رہی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر مظلوم فلسطینیوں کی آواز کو بھی بھرپور انداز میں بلند کر رہی ہے۔