LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی ڈیری انڈسٹری کی ترقی اور عالمی مارکیٹ میں کردار

News Image
بھارت دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے تاہم عالمی مارکیٹ میں برآمدات بڑھانے کے لیے جدید سپلائی چین کا نظام ناگزیر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی اور کولڈ چین انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بھارتی ڈیری مصنوعات کو عالمی معیار کے مطابق بنا سکتی ہے۔
بھارت کی ڈیری انڈسٹری کی کہانی ملک کی اقتصادی کامیابیوں میں سے ایک شاندار باب ہے۔ ایک وقت تھا جب بھارت دودھ کی شدید قلت کا سامنا کر رہا تھا، لیکن آج یہ ملک دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے، جہاں سالانہ پیداوار 248 ملین ٹن کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس کامیابی کے باوجود، بھارتی ڈیری سیکٹر کو اب ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے: عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کے ساتھ مسابقت کرنا اور برآمدات میں اضافہ کرنا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ماہرین کا ماننا ہے کہ روایتی سپلائی چین کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ عالمی سطح پر مسابقت کرنے کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ کولڈ چین انفراسٹرکچر کا فقدان اور معیار کو برقرار رکھنا ہے۔ دودھ ایک ایسی مصنوعات ہے جو بہت جلد خراب ہو جاتی ہے، اور دیہی علاقوں سے شہروں یا برآمدی مراکز تک پہنچنے کے عمل میں اگر درجہ حرارت کا درست انتظام نہ ہو تو مصنوعات کا معیار گر جاتا ہے۔ اگر بھارت اپنی سپلائی چین میں جدید ٹیکنالوجی، جیسے کہ انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) اور بلاک چین کا استعمال کرے، تو دودھ جمع کرنے سے لے کر پروسیسنگ یونٹس تک ہر مرحلے کی نگرانی ممکن ہو سکے گی، جس سے ضیاع میں کمی آئے گی اور عالمی معیار کے مطابق کوالٹی کنٹرول کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ، ڈیری فارمرز کو جدید ٹیکنالوجی اور بہتر انتظام کاری کی تربیت دینا بھی ایک اہم قدم ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے دودھ کے معیار کی جانچ، مویشیوں کی صحت کی نگرانی اور فیڈ کے انتظام کو بہتر بنا کر پیداواری صلاحیت کو کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔ جب سپلائی چین میں شفافیت آئے گی، تو بھارتی برانڈز عالمی خریداروں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ بھارت عالمی ڈیری مارکیٹ میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھرے گا۔ مستقبل میں بھارتی حکومت اور نجی شعبے کو مشترکہ طور پر لاجسٹکس کے انفراسٹرکچر پر توجہ دینی ہوگی۔ سڑکوں کے بہتر نیٹ ورک اور کولڈ سٹوریج سہولیات میں سرمایہ کاری سے سپلائی چین کی کارکردگی بڑھے گی۔ اگر بھارت اپنی ڈیری مصنوعات کو عالمی ضوابط کے مطابق تیار کرنے اور ان کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو اس شعبے کی برآمدی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ ممکن ہے۔ یہ نہ صرف ملکی معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ بھارت کو دنیا کا 'ڈیری ہب' بنانے کے خواب کو بھی شرمندہ تعبیر کرے گا۔