LIVE
Loading Breaking News...

مریخ پر آکسیجن کی پیداوار: ناسا کا تاریخی تجربہ

News Image
ناسا کے پرسیورینس روور میں نصب ایک چھوٹے سے آلے نے مریخ کے ماحول سے آکسیجن نکال کر انسانی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ دوسرے سیاروں پر موجود وسائل کو انسانی بقا کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
خلائی تحقیق کی تاریخ میں ناسا نے ایک اور شاندار کامیابی حاصل کر لی ہے، جب پرسیورینس روور میں نصب ایک مائیکرو ویو اوون کے سائز کے تجرباتی آلے 'موکسی' (MOXIE) نے مریخ کے ماحول سے کامیابی کے ساتھ آکسیجن تیار کی۔ سن 2021 میں انجام دیا جانے والا یہ تجربہ انسانی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جس میں کسی دوسرے سیارے کے مقامی وسائل کو کارآمد چیز میں تبدیل کیا گیا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف سائنسی لحاظ سے اہم ہے بلکہ مستقبل میں مریخی مشنز کی کامیابی کے لیے بھی ایک کلیدی پیش رفت ہے۔ مریخ کا ماحول 95 فیصد سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے وہاں انسانی سانس لینا ناممکن ہے۔ ناسا کے اس جدید تجربے کے دوران 'موکسی' نے مریخ کی فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کیا اور اسے کیمیائی عمل کے ذریعے آکسیجن میں تبدیل کیا۔ اپنے ابتدائی مرحلے میں اس آلے نے ایک گھنٹے کے دوران تقریباً 5.4 گرام آکسیجن پیدا کی۔ اگرچہ یہ مقدار بہت کم ہے، لیکن اس کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ کیا مریخ پر موجود وسائل سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے یا نہیں۔ اس کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مریخ پر مستقبل میں آنے والے انسانی مشنز کے لیے آکسیجن تیار کرنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ اس تجربے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب سائنسدانوں کو زمین سے بڑی مقدار میں آکسیجن ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آکسیجن نہ صرف خلا بازوں کے سانس لینے کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ راکٹ کے ایندھن کے لیے بھی ایک اہم جزو ثابت ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر آکسیجن پیدا کی جا سکے، جو مریخ پر انسانی آبادی کے قیام کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ناسا کے اس پروجیکٹ نے خلائی سائنس کے نئے افق کھول دیے ہیں اور اب ماہرین اس بات پر پرامید ہیں کہ انسان جلد ہی دیگر سیاروں پر اپنے قدم جما سکے گا۔