LIVE
Loading Breaking News...

چاڈ میں سولر کیوسک سے طبی سہولیات کی فراہمی آسان

News Image
وسطی چاڈ کے دور دراز علاقوں میں شمسی توانائی سے چلنے والے کیوسک طبی سہولیات کی فراہمی میں انقلابی تبدیلی لا رہے ہیں۔ ان مراکز کے قیام سے مقامی آبادی کو اب علاج کے لیے طویل اور مہنگے سفر سے نجات مل رہی ہے۔
وسطی چاڈ کے دور دراز علاقے بٹکین میں رہنے والی اچے کوڈو جیسے ہزاروں افراد کے لیے اب طبی علاج تک رسائی محض ایک خواب نہیں بلکہ حقیقت بن گئی ہے۔ ماضی میں یہاں کے باسیوں کو معمولی طبی معائنے کے لیے بھی شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا جس کے لیے نہ صرف بھاری رقم درکار ہوتی تھی بلکہ سفر کی مشکلات بھی ایک بڑا چیلنج تھیں۔ تاہم اب شمسی توانائی سے چلنے والے کیوسک نے ان دیہی علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ جدید سولر کیوسک مقامی سطح پر ڈاکٹروں اور مریضوں کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ثابت ہو رہے ہیں۔ ان شمسی مراکز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر قابل تجدید توانائی پر انحصار کرتے ہیں، جس سے بجلی کی عدم دستیابی کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ بٹکین جیسے پسماندہ علاقوں میں جہاں نیشنل گرڈ کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، وہاں یہ سولر پینلز طبی آلات کو فعال رکھنے اور ویکسین کو محفوظ درجہ حرارت پر برقرار رکھنے میں مدد دے رہے ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف طبی اخراجات میں کمی آئی ہے بلکہ وقت کی بچت بھی ہوئی ہے جس سے مقامی لوگ اپنی روزمرہ کی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں نبھا سکتے ہیں۔ صحت کے عالمی ماہرین اس ماڈل کو افریقہ کے دیگر پسماندہ ممالک کے لیے بھی ایک بہترین مثال قرار دے رہے ہیں۔ سولر کیوسک کی بدولت اب ٹیلی میڈیسن اور آن لائن مشاورت بھی ممکن ہو رہی ہے، جس سے ماہر ڈاکٹروں کی خدمات دور دراز علاقوں تک پہنچ رہی ہیں۔ اس منصوبے کے تحت خواتین اور بچوں کی صحت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جنہیں ماضی میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ چاڈ حکومت اور عالمی فلاحی اداروں کا یہ مشترکہ منصوبہ آنے والے وقتوں میں دیہی آبادی کی صحت کے معیار کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ آخر میں، یہ منصوبہ ثابت کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کس طرح انسانی زندگیوں کو بدل سکتا ہے۔ اگرچہ چاڈ کے دیہی علاقوں میں ابھی بھی چیلنجز موجود ہیں، لیکن شمسی توانائی سے چلنے والے یہ مراکز امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھرے ہیں۔ ان کیوسک کے قیام سے اب مقامی آبادی خود کو تنہا نہیں سمجھتی اور صحت کی بہتر سہولیات کے حصول کے لیے پرامید ہے۔