LIVE
Loading Breaking News...

انجنیرنگ کالج کے خلاف عدالتی فیصلہ: والد کو بھاری رقم کی واپسی کا حکم

News Image
ایک کنزیومر کمیشن نے آچاریہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کو حکم دیا ہے کہ وہ طالب علم کے والد کو فیس کے تنازع پر ہرجانہ ادا کرے۔ کالج کو یہ حکم اس وقت دیا گیا جب طالب علم داخلہ فیس ادا کرنے کے باوجود امتحانات میں بیٹھنے سے قاصر رہا۔
ایک اہم عدالتی فیصلے میں کنزیومر کمیشن نے آچاریہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک طالب علم کے والد کو 2 لاکھ 27 ہزار 965 روپے کی رقم ادا کرے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب طالب علم کے والد نے اپنے بیٹے کے انجنیرنگ میں داخلے کے لیے 2 لاکھ 90 ہزار روپے کی خطیر رقم ادا کی تھی، تاہم اس کے باوجود طالب علم کو فیس کے بقایا جات کے نام پر امتحانات میں بیٹھنے سے روک دیا گیا جس سے اس کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ والد کی جانب سے ادا کی گئی رقم داخلہ ایجنٹوں کے پاس پھنس گئی تھی اور کالج انتظامیہ نے اس رقم کو موصول کرنے کے باوجود طالب علم کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔ کنزیومر کمیشن نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ تعلیمی ادارے اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہونے والی مالی بے قاعدگیوں کا خمیازہ طلباء کو نہ بھگتنے دیں۔ ادارے کی طرف سے فیس کا حوالہ دے کر امتحان سے روکنا ایک غیر منصفانہ تجارتی عمل قرار دیا گیا۔ اس کیس میں متاثرہ والد نے موقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے مقررہ فیس مکمل ادا کر دی تھی اور ان کے پاس ادائیگی کے دستاویزی ثبوت بھی موجود تھے۔ عدالت نے کالج کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے اسے مجرمانہ غفلت قرار دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ادارہ یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتا کہ رقم ایجنٹوں کے پاس ہے، کیونکہ داخلے کا معاہدہ براہِ راست تعلیمی ادارے اور طالب علم کے درمیان ہوتا ہے۔ اس عدالتی حکم نامے کو تعلیمی شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں اکثر نجی تعلیمی ادارے فیس کے معاملات پر طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔ اس فیصلے سے ان والدین کو حوصلہ ملے گا جو نجی کالجوں کی من مانیوں اور مالی استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ کمیشن نے کالج کو حکم دیا ہے کہ مذکورہ رقم ہر صورت میں جلد از جلد ادا کی جائے تاکہ متاثرہ طالب علم کو مزید ذہنی اور تعلیمی نقصان سے بچایا جا سکے۔