Pakistan
سابق کرکٹ سٹارز کا عمران خان کی طبی دیکھ بھال کے لیے حکومت سے مطالبہ
پاکستان کے متعدد سابق کرکٹ کپتانوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو طبی اصولوں کے مطابق بہترین طبی امداد فراہم کی جائے۔ یہ مطالبہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں سامنے آیا ہے جس پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے۔
پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے کئی نامور سابق کپتانوں اور کھلاڑیوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو ان کی صحت کے پیش نظر فوری اور مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ کرکٹ کے ان عظیم کھلاڑیوں کا ماننا ہے کہ ایک سابق کپتان اور عوامی لیڈر کے طور پر عمران خان کا یہ بنیادی حق ہے کہ انہیں صحت کے معاملات میں کسی قسم کی کوتاہی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس حوالے سے جاری کردہ بیانات میں زور دیا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے احکامات کے عین مطابق ان کے طبی معائنے اور علاج کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب، وفاقی حکومت اور حکومتی اتحادیوں کی جانب سے اس مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عمران خان کی صحت پر کسی بھی قسم کی سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی سمیت دیگر حکومتی عہدیداران کا کہنا ہے کہ حکومت عمران خان کی صحت کے حوالے سے سنجیدہ ہے اور انہیں جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے اور عدالتی فیصلوں کے مطابق عمل درآمد جاری رہے گا۔
اسلام آباد کی انتظامیہ اور چیف کمشنر نے بھی اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے جس میں عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کے خلاف جلد سماعت کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت میں اس حوالے سے ہونے والی کارروائی پر پوری قوم کی نظریں لگی ہوئی ہیں کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ انسانی ہمدردی کے تناظر میں بھی انتہائی حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ عدالت کے احکامات کے مطابق طبی ماہرین کی ایک ٹیم کی نگرانی میں علاج کو یقینی بنانا ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے تاکہ کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کو ختم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار ان کے حامیوں اور وکلاء کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً کیا جاتا رہا ہے۔ سابق کرکٹ کھلاڑیوں کی اس مداخلت نے معاملے کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جس سے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس معاملے کو شفاف طریقے سے حل کرے۔ آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے احکامات اس معاملے کا مستقبل طے کریں گے، جبکہ عوام کی بڑی تعداد اس پورے عمل کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔