Business
ٹیکسٹائل انڈسٹری کا توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور ٹیرف میں کمی کا مطالبہ
پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ توانائی کے بازار کو لبرلائز کیا جائے اور صنعتی ٹیرف میں موجود تضادات کو فوری طور پر دور کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکسوں اور بجلی کی مہنگی قیمتوں کی وجہ سے ملکی برآمدات کا پہیہ رکنے کے دہانے پر ہے۔
پاکستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے نمائندوں اور مختلف صنعتی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ توانائی کے بازار کو مکمل طور پر لبرلائز کیا جائے تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ اس وقت ملکی ٹیکسٹائل سیکٹر بجلی کے غیر معمولی مہنگے ٹیرف اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ برآمد کنندگان کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر توانائی کی پالیسی میں اصلاحات نہ کیں تو صنعتی پیداوار میں مزید گراوٹ کا خدشہ ہے۔
پی ٹی ای اے (PTEA) اور دیگر صنعتی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ بجلی کے ٹیرف میں موجود تضادات صنعتوں کی کمر توڑ رہے ہیں۔ کاروباری طبقے نے وزیر اعظم اور سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل (SIFC) سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی قیمتوں کو منطقی سطح پر لائیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ مارکیٹ کے اندر مسابقت پیدا ہو سکے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ٹیکسٹائل کے شعبے میں ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ٹیکسٹائل کے فضلے کو ری سائیکل کر کے 773 ملین ڈالر تک کی برآمدی صلاحیت حاصل کی جا سکتی ہے، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم، اس مقصد کے حصول کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور صنعتی بجلی کے ٹیرف میں رعایت دینا ناگزیر ہے۔
پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال میں برآمدات کا بڑھنا ناگزیر ہے، لیکن ٹیکسٹائل انڈسٹری پر عائد غیر منصفانہ ٹیکس اور توانائی کے مہنگے نرخ ان مقاصد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ صنعت کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت اپنے آپ کو عالمی منڈی سے باہر محسوس کرے گی، جس کے اثرات براہِ راست ملکی معیشت اور روزگار کے مواقع پر مرتب ہوں گے۔