LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کی زرعی اور غذائی برآمدات میں جولائی کے دوران نمایاں بہتری

News Image
پاکستان کی غذائی اشیاء کی برآمدات جولائی کے مہینے میں 437.07 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ اضافہ گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں 2.47 فیصد زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال میں بہتری کے اشارے نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں پاکستان کی غذائی اجناس کی برآمدات میں جولائی کے مہینے کے دوران حوصلہ افزا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2024 میں پاکستان کی غذائی برآمدات کا حجم 437.07 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 2.47 فیصد زائد ہے۔ برآمدات میں اس اضافے کو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ملک میں ڈالر کی آمد میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اس برآمدی نمو میں گوشت اور چاول کی برآمدات کا کلیدی کردار رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گوشت اور گوشت سے بنی مصنوعات کی برآمدات میں 16.20 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بدولت عالمی منڈی میں پاکستانی گوشت کی مانگ میں اضافے کی تصدیق ہوتی ہے۔ اسی طرح چاول کی برآمدات میں بھی بحالی دیکھی گئی ہے، جس نے مجموعی غذائی گروپ کی برآمدی کارکردگی کو مستحکم کرنے میں مدد فراہم کی۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر برآمد کنندگان کو حکومتی سطح پر سہولیات فراہم کی جائیں تو غذائی اجناس کی برآمدات کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، برآمدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ غذائی اجناس کی درآمدات میں بھی جولائی کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم برآمدی حجم میں بہتری سے توازن قائم رکھنے میں مدد ملی ہے۔ ماہ بہ ماہ (MoM) بنیادوں پر دیکھا جائے تو غذائی برآمدات میں 4.28 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملکی زرعی شعبہ عالمی منڈیوں میں اپنی ساکھ بہتر بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت زرعی شعبے کی جدت اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمد پر توجہ مرکوز کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول کو مزید بڑھایا جا سکے اور تجارتی خسارے کو کم کیا جا سکے۔