LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کی پہلی کمرشل بانڈڈ آئل سٹوریج پالیسی: توانائی کے مرکز کی جانب اہم پیش رفت

News Image
ای سی سی کی جانب سے پہلی کمرشل بانڈڈ آئل سٹوریج پالیسی کی منظوری متوقع ہے جس کا مقصد پاکستان کو توانائی کا علاقائی مرکز بنانا ہے۔ اس اقدام سے خلیجی ممالک کی جانب سے تیل کی سٹوریج میں سہولت ملے گی اور ملکی توانائی کی سیکیورٹی مضبوط ہوگی۔
پاکستان کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) آج اپنی تاریخ میں پہلی بار کمرشل بانڈڈ آئل سٹوریج پالیسی کی منظوری دینے کے لیے تیار ہے۔ اس اہم پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کو خطے میں تیل کی تجارت اور سٹوریج کا ایک بڑا مرکز بنانا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، اس اقدام کے ذریعے خلیجی ممالک کے تیل پیدا کرنے والے اداروں کو پاکستان میں اپنے تیل کے ذخائر رکھنے کی سہولت میسر آئے گی، جس سے نہ صرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثر پڑے گا بلکہ توانائی کی سپلائی چین کو بھی مستحکم کیا جا سکے گا۔ اس پالیسی کا مرکزی مقصد پاکستان کو ایک ریجنل فیول ہب کے طور پر متعارف کروانا ہے تاکہ توانائی کی عالمی منڈیوں میں پاکستان کا کردار مزید بڑھ سکے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کی جانب سے جاری کردہ 'مشرق وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کی توانائی کی سیکیورٹی کے خطرات' پر مبنی رپورٹ میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کے پاس تیل کے کوئی تزویراتی (Strategic) ذخائر نہیں ہیں، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ یا سپلائی میں تعطل کے وقت ملکی معیشت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ بانڈڈ سٹوریج پالیسی اس خلا کو پر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی، کیونکہ اس سے ہنگامی صورتحال میں مقامی مارکیٹ کے لیے تیل کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ یہ پالیسی نہ صرف توانائی کی سیکیورٹی کے لیے اہم ہے بلکہ یہ معاشی لحاظ سے بھی ایک انقلابی قدم ثابت ہوگی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بانڈڈ آئل سٹوریج کی سہولت سے پاکستان کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی اور لاجسٹک کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ خلیجی ممالک کے لیے یہ ایک محفوظ اور قریبی راستہ ہوگا جہاں سے وہ وسطی ایشیا اور دیگر خطوں میں اپنے ایندھن کی ترسیل کو بہتر بنا سکیں گے۔ حکومت کا یہ اقدام عالمی توانائی منڈیوں میں پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ طویل المدتی توانائی کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا، جس سے ملکی صنعتوں کو ایندھن کی بلاتعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی۔