LIVE
Loading Breaking News...

خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ، ایران پر امریکی پابندیوں کا اثر

News Image
امریکا کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کے اعلان اور معاشی خدشات کے پیش نظر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، جس کی بنیادی وجہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کی اطلاعات اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے معاشی خدشات ہیں۔ مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں کے درمیان محتاط رویہ پایا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گراوٹ بڑی حد تک منافع کمانے کے رجحان اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کے اعلان کی تیاریوں نے توانائی کے شعبے میں ہلچل مچا دی ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ یہ پابندیاں عالمی رسد اور طلب پر کس قدر اثر انداز ہوں گی۔ اس کے علاوہ، امریکی اقتصادی اعداد و شمار اور وفاقی ریزرو کے ممکنہ فیصلوں کے پیش نظر بھی سرمایہ کار سرمایہ کاری کے فیصلوں میں تاخیر کر رہے ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں اس کمی کا اثر ایشیائی منڈیوں پر بھی دکھائی دیا جہاں حصص کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا۔ تکنیکی سطح پر دیکھا جائے تو برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتیں اہم سپورٹ لیولز کے قریب پہنچ چکی ہیں، جہاں تاجروں کی توجہ 80 ڈالر اور 75 ڈالر فی بیرل کی سطح پر مرکوز ہے۔ اگر قیمتیں ان سطحوں سے مزید نیچے گرتی ہیں تو مارکیٹ میں مزید فروخت کا دباؤ دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، سونے کی قیمتوں میں تین ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب استحکام دیکھا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں نسبتاً کمی ہے۔ مجموعی طور پر، عالمی معاشی منظرنامہ اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور توانائی کی منڈیوں میں مزید ہنگامہ خیزی متوقع ہے۔ ماہرین معاشیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکی معاشی پالیسیوں اور مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی صورتحال تیل کی قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ فی الحال، عالمی سرمایہ کار 'اکنامک ڈی ڈے' کے خدشات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر عالمی تجارتی سرگرمیوں پر پڑ رہا ہے۔ آنے والے سیشنز میں تیل کی طلب میں کمی یا اضافے کا تعین ان ہی سیاسی اور معاشی عوامل کی بنیاد پر کیا جائے گا۔