World
مونٹ بلانک: ڈیتھ پاس پر کوہ پیما خوفناک حادثے سے بال بال بچے
مونٹ بلانک کے خطرناک ترین راستے جسے 'ڈیتھ پاس' کہا جاتا ہے، پر کوہ پیماؤں کا ایک گروپ گرتے ہوئے پتھروں کی زد میں آنے سے بال بال بچ گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو نے کوہ پیمائی کے شوقین افراد میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
فرانس کے مشہور کوہستانی سلسلے مونٹ بلانک میں کوہ پیمائی کرنے والے ایک گروپ نے موت کو بہت قریب سے دیکھا جب وہ 'گوٹر کولور' (Goûter Couloir) نامی انتہائی خطرناک مقام سے گزر رہے تھے۔ اس مقام کو مقامی طور پر 'ڈیتھ پاس' یا موت کا راستہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں سے گزرنا انتہائی پرخطر سمجھا جاتا ہے۔ ایک کوہ پیما کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پہاڑی کی بلندی سے پتھروں کے بڑے بڑے تودے تیزی سے نیچے گر رہے ہیں، جس کی زد میں آنے سے کوہ پیماؤں کا گروپ بال بال بچ گیا۔ یہ خوفناک منظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس نے کوہ پیمائی کے شوقین افراد کے ہوش اڑا دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مونٹ بلانک کا گوٹر کولور راستہ موسم گرما کے دوران اپنی غیر متوقع صورتحال کی وجہ سے بدنام ہے۔ دن کے اوقات میں جب سورج کی تپش سے برف پگھلتی ہے، تو چٹانیں کمزور ہو کر نیچے گرنا شروع کر دیتی ہیں، جو نیچے سے گزرنے والے کوہ پیماؤں کے لیے کسی موت کے جال سے کم نہیں ہوتا۔ اس مقام کو عبور کرنے کے لیے کوہ پیماؤں کو انتہائی تیز رفتاری اور احتیاط کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے، کیونکہ یہاں ایک معمولی سا غلط فیصلہ بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں ملوث افراد نے بروقت ردعمل دیا اور وہ ایک محفوظ جگہ پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے، جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس واقعے کے بعد کوہ پیمائی کرنے والی تنظیموں اور مقامی حکام نے ایک بار پھر پہاڑوں پر جانے والے سیاحوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ موسم کی صورتحال اور راستوں کی خطرناکی کو مدنظر رکھیں۔ مونٹ بلانک جیسے اونچے پہاڑوں پر موسم کا بدلتا ہوا مزاج کسی بھی وقت حالات کو خراب کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے راستوں پر جہاں پتھر گرنے کا خدشہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ تجربہ کار کوہ پیماؤں کا کہنا ہے کہ ڈیتھ پاس سے گزرنے سے پہلے راستے کی مکمل جانچ پڑتال اور مقامی گائیڈز کی ہدایات پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ یہ ویڈیو ایک بار پھر یاد دلاتی ہے کہ فطرت کے سامنے انسانی کوششیں کتنی محدود اور نازک ہو سکتی ہیں۔