Sports
پاکستان ساؤتھ ایشین گیمز 2026 کی میزبانی کے لیے تیار
پاکستان 23 سال کے طویل وقفے کے بعد اپریل 2026 میں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ ان کھیلوں کا انعقاد اسلام آباد، لاہور اور پشاور کے تین شہروں میں کیا جائے گا جس میں 28 مختلف کھیلوں کے مقابلے شامل ہوں گے۔
پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے کہ وہ 23 سال کے طویل انتظار کے بعد دوبارہ ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ ساؤتھ ایشیا اولمپک کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان کھیلوں کا میگا ایونٹ 3 اپریل سے 11 اپریل 2026 تک پاکستان کے تین بڑے شہروں اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں منعقد ہوگا۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عارف سعید کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں بنگلہ دیش، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ بھارت نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا اور مجوزہ تاریخوں کی توثیق کی۔
کھیلوں کے اس عالمی معیار کے ایونٹ میں مجموعی طور پر 28 کھیلوں کے مقابلے شامل ہوں گے جن میں 346 میڈل ایونٹس منعقد کیے جائیں گے۔ متوقع اعداد و شمار کے مطابق 3200 سے زائد کھلاڑی ان کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آئیں گے، جبکہ مجموعی طور پر 4000 کے قریب غیر ملکی مہمانوں اور تکنیکی آفیشلز کی آمد متوقع ہے۔ وفاقی حکومت نے ان کھیلوں کے انعقاد کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور فنڈز کی فراہمی کے لیے گرین سگنل بھی دے دیا ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق یہ ایونٹ پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے جس کے ذریعے عالمی سطح پر ملک کا مثبت تشخص اجاگر ہوگا۔
تیاریوں کے حوالے سے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے اسلام آباد میں مہمانوں کے قیام اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ گیمز اصل میں 2021 میں منعقد ہونا تھے لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر انہیں ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اب جب کہ تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، حکومتی سطح پر ایک ٹیم کی طرح کام کیا جا رہا ہے تاکہ ایس سی او کانفرنس اور او آئی سی اجلاس کے ساتھ ساتھ ساؤتھ ایشین گیمز کو بھی کامیاب بنایا جا سکے۔ اجلاس کے دوران بھارت کی شرکت پر بھی بات ہوئی جہاں بھارتی نمائندے کی شمولیت کو ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حتمی شرکت کا دارومدار سیاسی حالات پر ہو سکتا ہے۔