World
جاپان زلزلہ: ہلاکتیں 34 ہو گئیں، متاثرین شدید گرمی اور پانی کی قلت کا شکار
جاپان میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 34 تک پہنچ گئی ہے۔ متاثرہ علاقوں کے باسی شدید گرمی اور پینے کے صاف پانی کی قلت جیسی مشکلات سے نبرد آزما ہیں۔
جاپان میں حال ہی میں آنے والے ہلاکت خیز زلزلے کے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے جہاں امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں دن رات مصروف ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 34 تک پہنچ گئی ہے جبکہ متعدد افراد تاحپال لاپتہ ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ریسکیو اہلکار انتہائی گرمی اور حبس کے ماحول میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ زندگیاں بچائی جا سکیں۔
دوسری جانب، زلزلے سے بچ جانے والے افراد کو اس وقت شدید ترین موسمی حالات اور بنیادی ضروریات زندگی بالخصوص پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔ شدید گرمی اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے بزرگوں اور بچوں کی صحت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشی کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں پانی اور بجلی کی فراہمی تاحال معطل ہے۔ حکام کی جانب سے متاثرین میں امدادی سامان اور پانی کی تقسیم کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے تاہم تباہ شدہ راستوں کی وجہ سے امداد کی ترسیل سست روی کا شکار ہے۔
اس دلخراش صورتحال کے درمیان کچھ حوصلہ افزا خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں ایک شاپنگ مال میں پھنسے ہوئے پالتو جانوروں کا بحفاظت نکالا جانا بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ ایک شاپنگ مال میں پھسی ہوئی تقریباً پچیس بلیاں بحفاظت نکال لی گئی ہیں جنہیں دیکھ کر مال کے عملے اور جانوروں کے مالکان نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔ دریں اثنا، جاپان میں بار بار آنے والے بڑے زلزلوں کی وجوہات پر ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ یہ ملک کیوں اتنی بڑی ارضیاتی ہلچل کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق جاپان 'رنگ آف فائر' پر واقع ہے جہاں ٹیکٹونک پلیٹوں کی مسلسل حرکت کی وجہ سے اس طرح کے طاقتور زلزلے معمول کا حصہ ہیں۔ حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچا جا سکے۔