LIVE
Loading Breaking News...

امریکا کی جنگ برائے انسداد دہشت گردی کے اخراجات 10 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے

News Image
گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد امریکا کی جانب سے شروع کی گئی طویل جنگی مہمات کے اخراجات اب 10 ٹریلین ڈالر کی خطیر رقم تک پہنچ چکے ہیں۔ اس بھاری بھرکم اخراجات کے اعداد و شمار میں عراق اور افغانستان کے تنازعات اور دیگر متعلقہ دفاعی اخراجات شامل ہیں۔
گیارہ ستمبر 2001 کے المناک واقعات کے بعد امریکی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی 'جنگ برائے انسداد دہشت گردی' اب اپنی 25 ویں سالگرہ کے قریب ہے، اور اس طویل المیعاد فوجی مہم جوئی کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے 10 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی معیشت خود کئی چیلنجوں سے نبردآزما ہے، اور ماہرین معیشت اس بھاری اخراجات پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ سرکاری دستاویزات اور تجزیاتی رپورٹس کے مطابق، ابتدائی طور پر عراق اور افغانستان میں لڑی جانے والی دو بڑی جنگوں پر 8 ٹریلین ڈالر سے زائد کی خطیر رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ اس 10 ٹریلین ڈالر کے تخمینے میں نہ صرف براہِ راست فوجی کارروائیوں کے اخراجات شامل ہیں بلکہ ان جنگوں کے طویل مدتی اثرات، فوجیوں کی صحت، پنشن کے وعدے اور دیگر انتظامی اخراجات بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید 2 ٹریلین ڈالر کا اضافی بوجھ بھی قومی خزانے پر پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ مجموعی ہندسہ 10 ٹریلین ڈالر کی نفسیاتی حد کو عبور کرنے کے قریب ہے۔ یہ اخراجات نہ صرف امریکی عوام کے لیے ایک بڑا معاشی سوالیہ نشان ہیں بلکہ عالمی سیاست اور امریکی خارجہ پالیسی کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ امریکا کی یہ جنگیں نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کا باعث بنیں بلکہ ان کے نتائج نے امریکی بجٹ کے ترجیحات کو بھی مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ان جنگوں میں خرچ ہونے والی رقم اگر انفراسٹرکچر، صحت، یا تعلیم کے شعبوں میں لگائی جاتی تو امریکی سماجی ڈھانچے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے۔ تاہم، دہشت گردی کے خلاف جنگ کو قومی سلامتی کی اولین ترجیح قرار دے کر ان وسائل کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اب جب کہ پچیس سال گزر چکے ہیں، واشنگٹن میں اس بات پر بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا ان جنگوں کے حاصلات اتنی بڑی معاشی قیمت کے مقابلے میں متناسب تھے یا نہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی ان جنگوں کے مالیاتی اثرات امریکی معیشت پر بوجھ بنے رہیں گے، کیونکہ قرضوں پر سود اور سابق فوجیوں کی بہبود کے لیے درکار رقوم بدستور ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ یہ 10 ٹریلین ڈالر کا اعداد و شمار ایک ایسے دور کی یاد دلاتا ہے جس نے دنیا بھر کے سیاسی منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔