Technology
بھارت میں فبلیس سیمی کنڈکٹر صنعت کو درپیش چیلنجز کا جائزہ
بھارتی حکومت کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کے لیے نئی پالیسیوں کے بعد مائنڈگرو جیسی مقامی کمپنیوں کے لیے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم، عالمی مارکیٹ میں مسابقت اور پیداواری چیلنجز بھارت کے فبلیس سیمی کنڈکٹر ویژن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
بھارت کا سیمی کنڈکٹر صنعت میں 'فبلیس' (Fabless) ماڈل کے ذریعے خود کفیل ہونے کا خواب اب زمینی حقائق کی دیوار سے ٹکرا گیا ہے۔ اپریل 2024 میں بھارتی حکومت کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کے حوالے سے متعارف کرائی گئی نئی پالیسیوں نے مائنڈگرو (Mindgrove) جیسی ابھرتی ہوئی مقامی کمپنیوں کے لیے ایک نیا راستہ کھول دیا ہے۔ نئی شرائط کے مطابق، سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مینوفیکچررز کو اپنے پرزہ جات کی اصل اور سورس کوڈ کے بارے میں انکشاف کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد غیر ملکی، خاص طور پر چینی ساختہ ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنا ہے۔ یہ پالیسی اگرچہ مقامی چپ ڈیزائنرز کے لیے ایک سنہری موقع ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا نفاذ تکنیکی اور معاشی اعتبار سے انتہائی مشکل ہے۔
فبلیس سیمی کنڈکٹر ماڈل کا مطلب ہے کہ کمپنی صرف چپس کا ڈیزائن تیار کرتی ہے، جبکہ ان کی اصل تیاری (Manufacturing) کسی بیرونی فاؤنڈری سے کرائی جاتی ہے۔ بھارت میں ڈیزائن کی صلاحیت تو موجود ہے، لیکن چپس کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ اب بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عالمی سطح پر ٹی ایس ایم سی (TSMC) جیسی کمپنیاں جس معیار اور لاگت پر چپس تیار کرتی ہیں، ان کا مقابلہ کرنا کسی بھی نئی کمپنی کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بھارتی کمپنیاں حکومت کی مراعات کے باوجود عالمی سپلائی چین میں اپنی جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، کیونکہ وہاں صرف سرکاری سرپرستی کافی نہیں، بلکہ تجارتی مسابقت اور بڑے پیمانے پر پیداواری صلاحیت بھی ضروری ہے۔
تجارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت کا فبلیس خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک کہ ملکی سطح پر ایک مضبوط ایکو سسٹم قائم نہ ہو۔ سیکیورٹی کے نام پر پابندیاں وقتی طور پر فائدہ تو دے سکتی ہیں، لیکن طویل مدت میں ان کمپنیوں کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور تکنیکی مہارت کی ضرورت ہوگی۔ مائنڈگرو جیسی کمپنیوں کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے تیار کردہ ڈیزائن نہ صرف سیکیورٹی کے لحاظ سے محفوظ ہیں بلکہ کارکردگی اور قیمت کے اعتبار سے بھی عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔ بھارت کے لیے اگلا بڑا چیلنج اپنی سیمی کنڈکٹر پالیسیوں کو عالمی تجارتی قوانین کے مطابق بنانا اور ساتھ ہی ساتھ مقامی ڈیزائنرز کو عالمی منڈی میں ایک قابل اعتماد پارٹنر کے طور پر متعارف کروانا ہے۔