Business
چینی یوآن کی قدر میں گراوٹ، ڈالر کے مقابلے میں نئی شرح جاری
بین الاقوامی مارکیٹ میں چینی کرنسی یوآن کی قدر میں منگل کے روز کمی دیکھی گئی اور یہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 6.7841 کی سطح پر بند ہوا۔ یہ پیش رفت چین کے مرکزی بینک کی جانب سے یوآن کی آٹھ ہفتوں پر محیط تیزی کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں جاری اتار چڑھاؤ کے درمیان چینی کرنسی یوآن کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یوآن کی شرح 6.7841 پر بند ہوئی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چینی کرنسی پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل مضبوطی کی جانب گامزن تھی اور ساڑھے تین سالہ بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکی تھی۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ یوآن کی اس قدر میں حالیہ نرمی غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ چین کے مرکزی بینک (PBOC) کی جانب سے کرنسی کی مارکیٹ میں مداخلت اور ریفرنس ریٹ کے تعین میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔
چین کے مرکزی بینک کی جانب سے یوآن کی آٹھ ہفتوں پر محیط تیزی کو روکنے کے اقدامات نے مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ رپورٹس کے مطابق مرکزی بینک کی پالیسی کا مقصد یوآن کی بے لگام قدر میں اضافے کو روکنا ہے تاکہ برآمدات کے شعبے کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ رائٹرز کے تخمینے کے مطابق، پی بی او سی یو ایس ڈی/سی این وائی (USD/CNY) کے حوالہ جاتی ریٹ کو 6.7248 پر سیٹ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکام کرنسی کی قدر میں استحکام برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔
دوسری جانب، ملٹی نیشنل بینکنگ گروپ MUFG اور دیگر مالیاتی اداروں نے یوآن کے بارے میں محتاط انداز اپناتے ہوئے اسے بتدریج بہتری کے ویو (Gradual Appreciation View) کے تناظر میں دیکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یوآن کی قدر میں وقتی طور پر کمی آئی ہے، تاہم چینی معیشت کی بحالی اور عالمی تجارت میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو دیکھتے ہوئے یوآن طویل المدتی بنیادوں پر اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سرمایہ کار اب مرکزی بینک کی آئندہ پالیسیوں اور ڈالر کے عالمی انڈیکس پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں جو کرنسی کی مستقبل کی سمت کا تعین کریں گی۔
مجموعی طور پر، چینی یوآن کی یہ تبدیلی عالمی تجارتی منڈیوں میں ایک اہم موضوع بنی ہوئی ہے کیونکہ اس کا اثر نہ صرف خطے کی دیگر کرنسیوں بلکہ عالمی سپلائی چین پر بھی مرتب ہوتا ہے۔ فی الحال، مارکیٹیں یوآن کی اس نئی سطح پر ردعمل ظاہر کر رہی ہیں، جبکہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ چین کے مالیاتی ادارے مارکیٹ میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھیں گے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چینی حکومت اپنی مانیٹری پالیسی میں کافی لچک اور ہوشیاری کا مظاہرہ کر رہی ہے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔