LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں احتجاج: پولیس کے طاقت کے بے جا استعمال پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تشویش

News Image
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس نے دہلی اور بہار میں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پیلٹ گنز اور برقی جھٹکے دینے والے آلات کا استعمال کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے پولیس کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اسے ریاستی سرپرستی میں تشدد قرار دیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی پولیس نے نوجوانوں کے زیر قیادت حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران طاقت کا انتہائی بے جا استعمال کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پولیس نے دہلی اور ریاست بہار میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گن، آنسو گیس، گرینیڈ اور برقی جھٹکے دینے والے آلات جیسے مہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ ایمنسٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور مقامی پولیسنگ کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب قومی سطح پر میڈیکل کے داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب بھارتی پولیس نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے بیان میں ان الزامات کی تردید کی ہے۔ پولیس حکام کا موقف ہے کہ طاقت کا استعمال صرف اس وقت کیا گیا جب مظاہرین نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور امن و امان کی صورتحال خراب ہونے لگی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کی آڑ میں سماج دشمن عناصر شامل ہو گئے تھے جنہوں نے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا اور انہیں شدید زخمی کیا۔ تاہم، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عینی شاہدین کے بیانات اور تصدیق شدہ ویڈیو شواہد کی بنیاد پر پولیس کے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے اکا دکا واقعات رپورٹ ہوئے، لیکن پولیس کا ردعمل 'ریاستی سرپرستی میں تشدد' کے مترادف تھا جسے ہجوم کو کنٹرول کرنے کے نام پر چھپانے کی کوشش کی گئی۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ایک تحقیقاتی پینل تشکیل دیا ہے جو پولیس اور مظاہرین دونوں کے رویوں کی جانچ کرے گا۔ سیاسی سطح پر بھی یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے دہلی پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا دے کر زخمی طلبہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پولیس پر زور دیا ہے کہ پیلٹ گنز کے استعمال کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ مبصرین کے مطابق، یہ احتجاج صرف امتحانی بے قاعدگیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ بے روزگاری، نوجوانوں کے لیے مواقع کی کمی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی مبینہ آمرانہ پالیسیوں کے خلاف ایک وسیع تر تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مودی کی تیسری مدت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ عوامی احتجاج ان کے لیے اب تک کا سب سے بڑا سیاسی چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔