LIVE
Loading Breaking News...

سمندر میں تارکین وطن کی کشتیوں کو درپیش خطرات پر امدادی تنظیم کی تشویش

News Image
ایک بین الاقوامی امدادی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ سمندر میں تارکین وطن کی مدد کرنے والی کشتیوں کو مسلسل ہراسانی اور جان لیوا خطرات کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
ایک سرکردہ بین الاقوامی امدادی تنظیم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سمندر کے کھلے پانیوں میں تارکین وطن کی زندگیوں کو بچانے کے لیے کام کرنے والی کشتیوں اور ان کے عملے کو شدید خطرات اور مسلسل ہراسانی کا سامنا ہے۔ تنظیم کے مطابق، یہ امدادی کارکن جو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ڈوبتے ہوئے تارکین وطن کو بچاتے ہیں، انہیں اکثر بحری راستوں پر تشدد اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے انسانی ہمدردی کے ان مشنز کی فعالیت متاثر ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کچھ مقامات پر امدادی کشتیوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کا الزام لگا کر بلاوجہ روکا جاتا ہے اور ان کی نقل و حرکت محدود کی جاتی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سمندر میں تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کو بچانے کے لیے امدادی ٹیموں کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، سیاسی اور سیکورٹی کے نام پر ان امدادی کشتیوں کو جس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس نے انسانی حقوق کے علمبرداروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سمندری راستوں پر نگرانی کے نام پر امدادی جہازوں کو ہراساں کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس سے ان تارکین وطن کی زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں جو پہلے ہی انتہائی مشکل حالات میں سمندر کا سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو بچانے کا عمل ایک خالصتاً انسانی بنیادوں پر مبنی کام ہے، جسے سیاست سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔ امدادی تنظیم نے عالمی برادری اور ساحلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ان کے جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اگر اس صورتحال کو فوری طور پر درست نہ کیا گیا تو سمندر میں تارکین وطن کی اموات کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ امدادی گروپ نے اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ کے باوجود سمندر میں انسانی جانوں کو بچانے کا مشن جاری رکھیں گے، تاہم اس کے لیے انہیں بین الاقوامی حمایت اور تحفظ کی ضرورت ہے۔