LIVE
Loading Breaking News...

کویت میں شہریت کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں اور سختی

News Image
کویت نے شہریت کے حصول اور اندراج کے قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے تاکہ دھوکہ دہی اور غیر قانونی اندراجات کی روک تھام کی جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کی قومی شناخت کے تقدس کو یقینی بنانا اور شہریت کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔
کویت کی حکومت نے شہریت کے حصول اور سرکاری ریکارڈ میں ناموں کے اندراج کے حوالے سے قوانین کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام حال ہی میں سامنے آنے والے ان کیسز کے بعد کیا گیا ہے جن میں شہریت کے حصول کے لیے جعلی دستاویزات اور غلط معلومات کا سہارا لیا گیا تھا۔ کویتی حکام کا ماننا ہے کہ قومی شناخت کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی سطح پر فراڈ یا دھوکہ دہی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اب تمام درخواستوں کی انتہائی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ کوئی بھی نااہل شخص غیر قانونی طور پر کویت کا شہری نہ بن سکے۔ نئے قوانین کے تحت اب شہریت کے لیے درخواست دینے والوں کے خاندان کے پس منظر اور ان کے پچھلے ریکارڈ کی تصدیق ڈیجیٹل سسٹم اور جدید ڈیٹا بیس کے ذریعے کی جائے گی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ جو افراد پہلے سے جعلی دستاویزات یا غلط بیانی کے ذریعے شہریت حاصل کر چکے ہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان کی شہریت منسوخ کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ اس کریک ڈاؤن کا مقصد ریاست کے انتظام و انصرام کو بہتر بنانا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے تاکہ صرف مستحق افراد ہی کویتی شہریت کے فوائد حاصل کر سکیں۔ اس فیصلے کو کویت کے سماجی اور سیاسی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، جہاں گزشتہ کچھ عرصے سے اس بات پر بحث جاری تھی کہ شہریت کے قوانین میں شفافیت لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کویت کی آبادی اور وسائل کے بہتر انتظام کے لیے یہ ضروری ہے کہ شہریت کا عمل فول پروف ہو۔ آنے والے دنوں میں مزید سخت ضوابط نافذ کیے جائیں گے جس کے تحت شہریت کی تصدیق کا عمل مکمل طور پر بائیو میٹرک اور جدید ٹیکنالوجی سے منسلک ہوگا۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ قومی مفاد کے خلاف کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گی اور مستقبل میں بھی قوانین کا نفاذ سختی سے جاری رکھا جائے گا۔