LIVE
Loading Breaking News...

عقاب اپنے گھونسلے سے کتنی دور جاتے ہیں، نئی تحقیق

News Image
عقاب عام طور پر افزائش نسل کے موسم میں اپنے گھونسلے کے پانچ سے تیس میل کے دائرے میں رہتے ہیں۔ خوراک کی دستیابی اور جغرافیائی حالات کی بنیاد پر ان کے سفر کا فاصلہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
عقاب دنیا کے سب سے زیادہ طاقتور اور شاندار شکاری پرندوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی زندگی، اڑان اور گھونسلے بنانے کے انداز کے بارے میں ہمیشہ سے سائنسدانوں اور پرندوں کے ماہرین میں گہری دلچسپی پائی جاتی رہی ہے۔ ایک عام سوال جو اکثر پوچھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک عقاب اپنے گھونسلے سے کتنی دور تک کا سفر کر سکتا ہے؟ اس کا جواب پیچیدہ بھی ہے اور حالات پر منحصر بھی، کیونکہ تمام عقاب ایک ہی جیسے معمولات کے حامل نہیں ہوتے۔ تحقیق کے مطابق، عام طور پر بالغ عقاب خاص طور پر افزائش نسل کے موسم میں اپنے گھونسلے کے ارد گرد پانچ سے تیس میل کے ریڈیس یا دائرے کے اندر ہی رہتے ہیں۔ اس محدود علاقے میں رہنے کی بنیادی وجہ اپنے انڈوں اور بچوں کی دیکھ بھال، حفاظت اور قریبی علاقوں سے شکار تلاش کرنا ہوتی ہے۔ جب وہ اپنے گھونسلے پر انحصار کر رہے ہوتے ہیں تو وہ زیادہ دور جانے سے گریز کرتے ہیں تاکہ کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری طور پر واپس پہنچ سکیں۔ تاہم، یہ فاصلہ مستقل نہیں رہتا اور اس میں موسم، خوراک کی دستیابی اور جغرافیائی حالات کی بنیاد پر بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اگر کسی علاقے میں مچھلی، چھوٹے ممالیہ جانور یا دیگر خوراک باآسانی دستیاب ہو تو عقاب بہت کم فاصلہ طے کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر خوراک کی قلت ہو یا افزائش نسل کا موسم نہ ہو، تو بالغ عقاب خوراک کی تلاش میں اپنے گھونسلے سے دیسی میلوں دور تک کا سفر طے کر سکتے ہیں اور کئی دنوں تک واپس نہیں آتے۔ پرندوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان عقاب جو ابھی بالغ نہیں ہوئے یا جنہوں نے اپنا نیا علاقہ تلاش کرنا ہے، وہ پرانے اور تجربہ کار عقابوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ طویل اور طوفانی سفر کرتے ہیں۔ وہ خوراک اور سازگار ماحول کی تلاش میں سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے نئے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس طرح عقابوں کی نقل و حرکت کا یہ پورا عمل قدرتی توازن کو برقرار رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔