LIVE
Loading Breaking News...

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کا دورہ امریکہ منسوخ

News Image
انڈین اوورسیز کانگریس یو ایس اے نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو دورہ امریکہ کے لیے سیاسی کلیئرنس نہ ملنے پر سخت تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ نے اس اقدام کی وجہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کے شایان شان نہ ہونا بتائی ہے۔
انڈین اوورسیز کانگریس (آئی او سی) یو ایس اے کے تلنگانہ چیپٹر نے ریاست کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو امریکہ کے سرکاری دورے کے لیے سیاسی کلیئرنس نہ ملنے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب حکام نے اس دورے کے لیے اجازت دینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ کانگریس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایک منتخب وزیر اعلیٰ کو بین الاقوامی دورے سے روکنا جمہوری اقدار اور وفاقی ڈھانچے کے منافی ہے، خاص طور پر جب یہ دورہ ریاست میں سرمایہ کاری اور ترقیاتی مقاصد کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا تھا۔ دوسری جانب، بھارتی وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دورے کا مجوزہ پروگرام ایک وزیر اعلیٰ کے آئینی عہدے اور وقار کے مطابق نہیں تھا۔ وزارت کے مطابق، دورے کی نوعیت اور اس کے شیڈول میں شامل سرگرمیاں اس اعلیٰ ترین سرکاری سطح کے لیے موزوں نہیں تھیں جس کے پیش نظر سیاسی کلیئرنس دینے سے انکار کیا گیا۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی دوروں کے لیے تمام پروٹوکولز اور ضوابط کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ ملک کی ساکھ پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ اس پیش رفت کے بعد تلنگانہ میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی انتقام کی بنا پر ریاستی حکومت کے کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ریونت ریڈی ریاست کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کی کوشش کر رہے تھے جسے سبوتاژ کیا گیا ہے۔ فی الحال، اس معاملے پر مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے، اور مبصرین کا خیال ہے کہ یہ تنازعہ وفاق اور ریاستوں کے مابین اختیارات کی کشمکش کو مزید نمایاں کر رہا ہے۔ امریکا میں مقیم تلنگانہ کے تارکین وطن اور کانگریس کے حامی اب اس معاملے پر احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے دوروں کے حوالے سے وزارت خارجہ کے سخت پروٹوکولز ہمیشہ سے ایک حساس معاملہ رہے ہیں، تاہم اس تازہ واقعے نے اس بحث کو ایک نئی جہت دی ہے کہ کیا ایسے دورے صرف سرکاری مصروفیات تک محدود ہونے چاہئیں یا ان میں سیاسی و تجارتی اجتماعات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔