Technology
اے آئی ٹیکنالوجی: گڑھوں کی شکایت اب صرف چار سیکنڈ میں
بنگلورو سے تعلق رکھنے والے ایک سافٹ ویئر انجینئر نے کار کے ڈیش کیم کو ایک ایسی جدید آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹول میں تبدیل کر دیا ہے جو سڑکوں پر موجود گڑھوں کو خود بخود پہچان کر ان کی شکایت درج کر سکتی ہے۔ یہ نظام جی پی ایس اور ایکسیلرومیٹر کی مدد سے گڑھوں کی درست لوکیشن اور تصاویر چند سیکنڈ میں حکام کو بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بنگلورو کے ایک سافٹ ویئر انجینئر گورو سین نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک ایسی شاندار پیش رفت کی ہے جس سے سڑکوں کی خستہ حالی اور گڑھوں کے مسئلے سے نمٹنا نہایت آسان ہو جائے گا۔ گورو سین نے اپنی کار میں نصب ڈیش کیم کو ایک جدید مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام سے منسلک کیا ہے، جو گاڑی چلانے کے دوران سڑک پر موجود گڑھوں کو خود بخود شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نظام میں ڈیش کیم کے ساتھ جی پی ایس (GPS) اور ایکسیلرومیٹر کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی بدولت جیسے ہی گاڑی کسی گڑھے کے اوپر سے گزرتی ہے، سسٹم فوری طور پر متحرک ہو جاتا ہے۔
اس ایجاد کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ سڑک پر موجود گڑھے کی نہ صرف نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس کی درست لوکیشن اور تصویر کے ساتھ محض چار سیکنڈ کے اندر شکایت کا مسودہ بھی تیار کر دیتا ہے۔ گورو سین نے اپنے تجربے کے دوران بتایا کہ ایک بار آفس جانے کے دوران ان کے سسٹم نے راستے میں موجود 12 گڑھوں کو نہ صرف پہچانا بلکہ ان کی درجہ بندی بھی کی۔ اس طرح کے خود کار نظام سے ٹریفک حکام کو سڑکوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے بروقت اور درست معلومات فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے حادثات کی شرح میں بھی کمی آئے گی۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پروجیکٹس سمارٹ سٹی کے تصور کو حقیقت بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ عام طور پر شہری سڑکوں کے گڑھوں کی شکایت کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر کاٹتے ہیں یا آن لائن پورٹلز پر طویل فارم بھرتے ہیں، لیکن یہ ٹیکنالوجی اس پورے عمل کو خودکار بنا دیتی ہے۔ گورو سین کا یہ اقدام اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کا درست استعمال عوامی مسائل کو حل کرنے اور روزمرہ کی زندگی کو آسان بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
فی الحال اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ اسے بڑے پیمانے پر لاگو کیا جا سکے۔ اگر حکومت اور میونسپل کارپوریشنز اس نظام کو اپنی گاڑیوں کے بیڑے میں شامل کر لیں، تو شہر کی سڑکوں کی مانیٹرنگ کا کام بغیر کسی اضافی انسانی کوشش کے انجام دیا جا سکے گا۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف بنگلورو بلکہ دنیا بھر کے ان شہروں کے لیے ایک ماڈل بن سکتی ہے جہاں خستہ حال سڑکیں اور گڑھے ایک بڑا دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔