LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی چینی روبوٹس پر پابندی اور چین کا ردعمل

News Image
امریکہ نے قومی سلامتی اور اے آئی کے تحفظ کے لیے چینی ساختہ سمارٹ روبوٹس اور ویکیومز کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ چین نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
واشنگٹن: امریکہ کی جانب سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے خلاف ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے چینی ساختہ سمارٹ ویکیوم اور ہیومنائڈ روبوٹس کی درآمد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے دنیا بھر میں روبوٹکس تیار کرنے والی بڑی چینی کمپنیاں براہ راست متاثر ہوئی ہیں جبکہ صارفین کے پاس موجود اعلیٰ اختیارات والے آپشنز بھی محدود ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دور سے شروع ہونے والی اس پالیسی کا مقصد امریکہ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بنیادی ڈھانچے کو تحفظ دینا اور ملکی مفادات کو مقدم رکھنا ہے۔ دوسری جانب، چینی حکومت نے امریکہ کے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور اسے دو طرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی یہ پابندیاں بین الاقوامی تجارت کے اصولوں کے خلاف ہیں اور اس سے عالمی سپلائی چین کو شدید دھچکا لگے گا۔ چینی وزارت خارجہ اور تجارتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنے اس فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو چین بھی اس کے خلاف سخت جوابی اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس پابندی کے نفاذ سے امریکہ میں سمارٹ ہوم ایپلائینسز اور جدید روبوٹکس ٹیکنالوجی کے بازار میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین روبوٹکس اور سمارٹ سسٹمز کی تیاری میں دنیا بھر میں سب سے آگے ہے، اور امریکی پابندیوں سے نہ صرف چینی کمپنیوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ خود امریکی صارفین کو مہنگے اور کم متبادل آپشنز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تجارتی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام دونوں عالمی اقتصادی طاقتوں کے درمیان ٹیکنالوجی کی جنگ کو مزید ہوا دے گا۔