LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کے راکٹ لانچ عالمی سطح پر مہنگے ترین، تحقیقی رپورٹ میں انکشاف

News Image
ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی خلائی پروگرام کے تحت ہونے والے راکٹ لانچ عالمی طاقتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مہنگے ہیں۔ اسپیس ایکس جیسی نجی کمپنیوں کی جانب سے دوبارہ استعمال کے قابل راکٹوں کے استعمال نے عالمی سطح پر قیمتوں میں نمایاں کمی کی ہے۔
خلائی تحقیق کے شعبے میں جاری عالمی مسابقت کے درمیان ایک تازہ ترین تحقیقی رپورٹ نے بھارتی خلائی پروگرام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت کے خلائی مشنز کے لیے راکٹ لانچ کرنے کی لاگت دنیا کی دیگر بڑی خلائی طاقتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر خلائی ٹیکنالوجی کی قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھی جا رہی ہے اور نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے خلا تک رسائی کو سستا بنانے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ امریکی اور یورپی خلائی ادارے اب اپنے راکٹ لانچ کی لاگت کو کم سے کم رکھنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں تاکہ خلائی معیشت میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارتی خلائی پروگرام کو لاگت کے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے مزید اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر دوبارہ استعمال کے قابل راکٹوں (Reusable Rockets) کی ٹیکنالوجی کے فقدان نے بھارت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ امریکا کی نجی کمپنی اسپیس ایکس نے اپنی اختراعی صلاحیتوں کے ذریعے راکٹ لانچ کی قیمتوں میں نمایاں کمی کر کے عالمی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے، جس کے اثرات اب پوری دنیا کے خلائی پروگرامز پر مرتب ہو رہے ہیں۔ بھارت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طرح اپنے محدود وسائل میں خلائی تحقیق کو جاری رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے مستقبل قریب میں راکٹ ٹیکنالوجی میں جدید تبدیلیاں متعارف نہ کروائیں تو اسے عالمی کمرشل خلائی مارکیٹ میں سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دیگر ممالک، جو پہلے اپنے لانچ کے لیے بھارت پر انحصار کرتے تھے، اب کم لاگت اور زیادہ جدید سہولیات کی فراہمی کی وجہ سے دیگر نجی کمپنیوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ یہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خلائی صنعت اب مکمل طور پر کاروباری اور تکنیکی کارکردگی پر مبنی ہو چکی ہے، جہاں صرف وہی ملک کامیاب ہو سکتے ہیں جو لاگت کو کم کرنے کے فارمولے پر عبور حاصل کر لیں۔