Pakistan
سندھ کی تقسیم کی تجویز مسترد، کانفرنس کا سخت ردعمل
ایک اہم کانفرنس کے دوران سندھ کی تقسیم کے تمام منصوبوں کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔ شرکا نے عزم ظاہر کیا ہے کہ صوبے کی تقسیم کے خلاف ہر قسم کی ممکنہ قانون سازی اور سازش کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔
کراچی میں منعقد ہونے والی ایک اہم کل جماعتی کانفرنس میں سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔ اس کانفرنس کے شرکا کا کہنا تھا کہ صوبے کی تاریخی اور انتظامی وحدت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کا بھرپور سیاسی اور قانونی سطح پر مقابلہ کیا جائے گا۔ حالیہ دنوں میں سیاسی حلقوں کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس اور صوبے کی تقسیم کے حوالے سے بیانات سامنے آئے تھے، جن پر مختلف سیاسی جماعتوں اور قوم پرست رہنماؤں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کانفرنس کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ اس قسم کے اقدامات سے صوبے کے عوام میں پائی جانے والی ہم آہنگی کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ملک میں نئی سیاسی و انتظامی کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔ دوسری طرف، مصطفیٰ کمال اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں، جن کا موقف ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ مفلوج ہو چکا ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے نئے اضلاع اور اکائیاں بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاہم، کانفرنس میں موجود بیشتر رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ مسائل کا حل صوبے کو تقسیم کرنے میں نہیں بلکہ موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات نافذ کرنے اور اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے میں پوشیدہ ہے۔ مقررین نے خبردار کیا کہ تاریخ کے اس موڑ پر سندھ کے عوام کسی بھی ایسی قانون سازی کو قبول نہیں کریں گے جو صوبے کی جغرافیائی اور تاریخی شناخت کو مسخ کرنے کا باعث بنے۔ تمام شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سندھ کے حقوق اور اس کی بقا کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتے رہیں گے اور صوبے کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔