Politics
جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک: حافظ نعیم الرحمان کا اسلام آباد مارچ کا عندیہ
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کے خلاف سخت احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے ملکی موجودہ معاشی صورتحال اور مہنگائی کے طوفان کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے 12 ربیع الاول کے بعد ملک گیر ہڑتال اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ عوامی مسائل سے غافل ہے اور آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر عوام کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت کا موقف ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافے نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، جس کے خلاف اب خاموش رہنا ممکن نہیں ہے۔
اس سے قبل جماعت اسلامی کی جانب سے ملک بھر میں احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں خاتون وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود خواتین کا تحفظ یقینی بنانے میں ناکامی افسوسناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں جاری احتجاجی تحریک کو مرحلہ وار تیز کرے گی اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔ بلوچستان میں گورنر ہاؤس کے باہر 29 تاریخ سے شروع ہونے والا دھرنا اسی احتجاجی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد حکومتی ایوانوں تک عوام کی آواز پہنچانا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا حتمی لائحہ عمل 12 ربیع الاول کے فوراً بعد طے کیا جائے گا جس میں ملک بھر سے کارکنان شرکت کریں گے۔ جماعت اسلامی کا یہ اقدام ملکی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر رہا ہے، کیونکہ سیاسی مبصرین کے مطابق عوام کی بڑھتی ہوئی مشکلات کے پیش نظر اپوزیشن کی یہ احتجاجی تحریک حکومت کے لیے بڑی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ عوام کی بھرپور شرکت اس تحریک کی کامیابی کا تعین کرے گی، جبکہ حکومت کی جانب سے فی الحال اس اعلان پر کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔