World
ایران کا امریکہ کو انتباہ: تیل کی سپلائی معطل کرنے کی دھمکی
ایرانی سیکیورٹی چیف نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر ملک کے خلاف معاشی جنگ بند نہ ہوئی تو آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک دی جائے گی۔ ایران نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے تہران کے خلاف اقدامات سے گریز کریں۔
تہران کی جانب سے ایک سخت بیان میں ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے امریکہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جاری معاشی جنگ کا سلسلہ بند نہ ہوا تو ایران دنیا بھر کو تیل کی فراہمی روک دے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے تہران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے اور ایک 'فیصلہ کن معاشی کارروائی' کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ امریکہ کی جانب سے تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچانے کی کوششیں خطے کے استحکام کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ ایرانی حکام نے زور دیا کہ اگر ایران کا تیل عالمی منڈیوں تک پہنچنے سے روکا گیا تو آبنائے ہرمز کے ذریعے کسی دوسرے ملک کو بھی تیل کی برآمدات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ آبنائے دنیا بھر میں توانائی کی فراہمی کا سب سے اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے روزانہ کروڑوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ تہران کی اس دھمکی نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے بعد عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایران نے خطے کے دیگر ممالک بالخصوص خلیجی ریاستوں کو بھی انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر ایران مخالف اقدامات میں ملوث ہونے سے باز رہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ جو ممالک امریکی پالیسیوں کو تقویت دے کر ایران کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچائیں گے، انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی دباؤ کی پالیسی کو 'معاشی ڈی ڈے' قرار دیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران واقعی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا عملی اقدام اٹھاتا ہے تو اس سے عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ ایران اپنی اس پالیسی کو دفاعی حکمت عملی قرار دیتا ہے، جس کا مقصد امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کا جواب دینا ہے۔ موجودہ صورتحال نے خطے کو ایک غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں جنگی بادل منڈلانے کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ تاہم، تہران نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک معاشی جنگ جاری ہے، وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے۔